سابق وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی حریفوں کو خبردار کیا ہے کہ نظریاتی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں بدلنے سے گریز کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی فضا مسلسل محاذ آرائی کی زد میں ہے اور حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ سیاست میں مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب یہ مقابلہ نفرت میں تبدیل ہو جائے تو اس کا نقصان صرف سیاستدانوں کو نہیں، ریاست کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی حریف ضرور ہیں، لیکن ایک دوسرے کے دشمن نہیں، اور اس فرق کو سمجھنا ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
نواز شریف کی جانب سے یہ پیغام بظاہر موجودہ سیاسی تعطل کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ معاشی بحران اور عدالتی فیصلوں کے تناظر میں حکومتی صفوں میں بھی یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مسلسل محاذ آرائی سے قانون سازی اور حکومتی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک حکومت مخالفین کے خلاف قانونی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہیں کرتی، تب تک "سیاسی مفاہمت” کی باتیں محض لفظی جمع خرچ ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا یہ بیان وقتی ضرورت تو ہو سکتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر دعوتِ مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف حکومتی اتحاد ہے جو اپنی مدت پوری کرنے اور معاشی اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن ہے جو انتخابات کے مطالبے اور سیاسی جگہ کے حصول کے لیے ہر محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے۔
نواز شریف کا یہ مطالبہ سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز ضرور بنا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اپنی جماعت کے اندر اور اپوزیشن کے ساتھ اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے گی؟ جب تک سیاسی قیادتیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا عملی مظاہرہ نہیں کرتیں، تب تک اس قسم کے بیانات صرف اخباری سرخیاں ہی بنے رہیں گے۔
