کراچی میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے سندھ حکومت کی جانب سے لگائی گئی تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ہر صورت کراچی پہنچنے کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما کو گزشتہ چند دنوں کے دوران بارہا شہر میں داخلے سے روکا گیا، جس کے بعد اب یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی محاذ میں بدل چکا ہے۔
سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کو یقینی بنانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب شہریار آفریدی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "حکومتی رکاوٹیں اور پولیس کی بھاری نفری سچائی کی آواز کو نہیں دبا سکتی۔”
آفریدی نے اپنے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن ان کا عزم واضح ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر کراچی پہنچیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صرف ایک رہنما کے شہر میں داخلے کا معاملہ نہیں، بلکہ صوبے میں سیاسی جگہ حاصل کرنے کی ایک بڑی کشمکش ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے کراچی میں موجودگی اپنی تنظیمی طاقت کا امتحان ہے، جبکہ حکمران جماعت کے لیے آفریدی کو روکنا اپنی گرفت برقرار رکھنے کا چیلنج۔
شہر کے داخلی راستوں پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور رکاوٹیں بدستور کھڑی ہیں۔ دفعہ 144 کا نفاذ اور سیاسی جلسوں پر پابندی کو حکومت اپنے دفاع کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی قیادت کی نقل و حرکت پر قدغن لگانا ایک خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔
آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ کیا سندھ حکومت شہریار آفریدی کو حراست میں لے گی یا انہیں شہر میں داخل ہونے دے گی؟ اس فیصلے کا سیاسی خمیازہ دونوں جانب بھاری ہو سکتا ہے، اور بظاہر دونوں فریقین کسی بھی نتیجے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
