مسقط کے ساحلی علاقوں میں روسی پرچم بردار آئل ٹینکر سے خارج ہونے والا تیل پہنچ گیا ہے، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر صفائی کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سوہار کی بندرگاہ کے قریب سمندری لہروں کے ساتھ تیل کے سیاہ دھبے ساحل سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر تفریحی ساحلوں کو عوام کے لیے بند کر دیا ہے۔ ماہی گیروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جب تک پانی کے نمونوں کی جانچ مکمل نہیں ہو جاتی، اپنی کشتیاں سمندر میں نہ اتاریں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ متاثرہ ساحلی پٹی نایاب کچھوؤں کی افزائش گاہ ہے اور یہاں موجود مینگرووز کے جنگلات سمندری حیات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر تیل ان جڑوں میں بیٹھ گیا، تو اس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سمندری لہروں کا رخ مینگرووز کی طرف ہے، اور ہماری تمام تر توجہ اسے پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہے۔”
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ روسی ٹینکر نے مبینہ طور پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تیل خارج کیا۔ سیٹلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے جہاز کی نشاندہی تو ہو گئی ہے، تاہم عملے نے ابتدائی طور پر کسی بھی قسم کی غفلت سے انکار کیا ہے۔
مقامی ماہی گیر برادری کے لیے یہ واقعہ معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ باطنہ کے علاقے میں مچھلیوں کی منڈیوں میں سپلائی رک گئی ہے، جس سے قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اگر صفائی کا عمل طویل ہوا تو ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوگا۔
حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزارت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ٹینکر کا عملہ قصوروار پایا گیا تو نہ صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کارروائی کی جائے گی۔
فی الحال صفائی کرنے والی ٹیمیں کنٹینمنٹ بومز کے ذریعے تیل کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگلے 72 گھنٹے ساحل کی بحالی کے لیے فیصلہ کن ہوں گے، مگر ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ سمندری حیات کو پہنچنے والا نقصان طویل المدتی ہو سکتا ہے۔
