سابق امریکی نائب صدر ال گور اب بھی موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر اسی شدت سے بات کر رہے ہیں جس کا آغاز انہوں نے دو دہائی قبل کیا تھا۔ اپنی دستاویزی فلم ’این انکونوینینٹ ٹروتھ‘ کے ذریعے عالمی بحث چھیڑنے والے گور کا ماننا ہے کہ دنیا اب بھی فوسل فیولز (تیل و گیس) سے جان چھڑانے میں بہت سست روی کا شکار ہے۔
ان کا لہجہ اب پہلے سے کہیں زیادہ تلخ اور براہِ راست ہے۔ گور اب صرف ماحولیاتی اعداد و شمار پیش کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ کھلے عام تیل اور گیس کمپنیوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو ہدف بنا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اب مسئلہ صرف پگھلتے گلیشیئرز کا نہیں، بلکہ ان طاقتور مفادات کا ہے جو دنیا کو قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھنے سے روک رہے ہیں۔
ال گور کا موجودہ بیانیہ "گرین واشنگ” کے گرد گھومتا ہے۔ وہ ان بڑی کارپوریشنز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو ایک طرف نیٹ زیرو کے وعدے کرتی ہیں اور دوسری طرف خاموشی سے نئے تیل کے کنوؤں کی تلاش میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا پیغام اب پرانا ہو چکا ہے، لیکن ریکارڈ توڑتی گرمی اور تباہ کن سیلابوں کے اعداد و شمار ان کی بات کو جھٹلانا مشکل بناتے ہیں۔
ال گور کے سامنے اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ "کلائمیٹ فیٹیگ” یا موسمیاتی تھکن ہے۔ معاشی بحرانوں اور عالمی تنازعات میں گھرے عام آدمی کے لیے اب دہائیوں پر محیط کسی خطرے پر توجہ مرکوز رکھنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
ایک حالیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گور نے کہا، "فوسل فیول انڈسٹری اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے تاکہ موجودہ نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔” ان کے مطابق، یہ اب سائنسی بحث نہیں بلکہ سیاسی نظام کی بقا کی جنگ ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کی رپورٹس بھی اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ شمسی اور ونڈ انرجی میں سرمایہ کاری بڑھی ہے، لیکن یہ پیرس معاہدے کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ال گور نے اب خود کو ایک ایسے واچ ڈاگ کے طور پر ڈھال لیا ہے جو سائنسی حقائق اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان خلیج کو نمایاں کرتا رہتا ہے۔
کیا ان کا پیغام آج کے پولرائزڈ میڈیا میں اب بھی اثر رکھتا ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ وہ اب صرف ایک سیاستدان سے کارکن نہیں بنے، بلکہ ایک ایسی مستقل آواز بن چکے ہیں جو یہ یاد دلاتی ہے کہ سبز توانائی کے دعووں کے باوجود، دنیا کا انحصار اب بھی کاربن پر ہے۔
ال گور کا ارادہ پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے سامعین سے کہا کہ اگر ہم نے آج دباؤ ڈالنا چھوڑ دیا، تو اس کا مطلب مستقبل سے دستبردار ہونا ہے۔
