سندھ کے تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کا پرانا اور متنازع نظام اب ماضی بننے والا ہے۔ صوبائی حکومت نے 2026 سے تمام تعلیمی بورڈز میں ملازمتوں کے لیے نئے قواعد و ضوابط لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
برسوں سے یہ شکایات عام تھیں کہ بورڈز میں بھرتیاں قابلیت کے بجائے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف بورڈز کی کارکردگی کو متاثر کیا بلکہ امتحانی عمل کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کیے۔ نئے قوانین کے تحت اب بھرتی کا اختیار کسی ایک چیئرمین یا افسر کے پاس نہیں رہے گا، بلکہ اسے ایک مرکزی اور شفاف نظام کے تابع کیا جائے گا۔
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ بورڈز میں غیر مستحق افراد کی بھرمار نے انتظامی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، امتحانی ڈیٹا اور حساس مالی ریکارڈ کو سنبھالنے کے لیے جس مہارت کی ضرورت ہے، موجودہ عملہ اس سے محروم ہے۔
نئے قواعد کے تحت اب بھرتیاں کسی تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے ہوں گی۔ انٹرویو پر مبنی پرانی روایت کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ صرف وہی امیدوار منتخب ہو سکیں جو تحریری امتحان اور اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ اس پالیسی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہونے والی بھرتیوں کا آڈٹ بھی شامل ہے۔ جن ملازمین کے پاس تقرری کے قانونی دستاویزات نہیں ہوں گے یا جنہیں قواعد سے ہٹ کر بھرتی کیا گیا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے پر بورڈ ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے مزاحمت کی توقع کی جا رہی ہے۔ ملازمین کا موقف ہے کہ یہ اقدام بورڈز کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ تاہم، صوبائی کابینہ اپنے موقف پر قائم ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ بورڈز اس وقت ضرورت سے زیادہ عملے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، جس سے وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔
یہ اصلاحات کامیاب ہوں گی یا نہیں، اس کا انحصار ان کے نفاذ پر ہے۔ ماضی میں بھی اصلاحات کی کئی کوششیں سیاسی دباؤ اور یونینز کی مخالفت کے باعث دم توڑ گئی تھیں۔ اگر 2026 کی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد ہو جاتا ہے، تو سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ایک ڈیجیٹل اور شفاف بھرتی کا نظام قائم ہو جائے گا، بصورت دیگر یہ قواعد بھی فائلوں تک محدود رہ جائیں گے۔
