حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کے واقعے کو باضابطہ طور پر ‘ہائی پروفائل’ کیس قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد عدالتی کارروائی کو تیز کرنا اور مقتولہ کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اس اقدام کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب عوامی حلقوں اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں کی جانب سے پولیس کی ابتدائی سست روی پر شدید تنقید کی گئی۔ کیس کو ہائی پروفائل قرار دینے کا مطلب ہے کہ اب تحقیقات کسی مقامی تھانے کی سطح پر نہیں بلکہ اعلیٰ افسران کی نگرانی میں ہوں گی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق، پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں کئی اہم شواہد کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ مقتولہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اگر پہلے 48 گھنٹوں میں لاپرواہی نہ برتی جاتی، تو قاتل آج قانون کی گرفت میں ہوتے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بروقت بازیابی میں ناکامی اور گواہوں کے بیانات میں تضاد اس کیس کے اہم ترین پہلو ہیں جنہیں اب نئی ٹیم دوبارہ کھنگال رہی ہے۔
نئی تحقیقاتی ٹیم اب مقتولہ کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس، بشمول موبائل فون کالز اور سوشل میڈیا ایکٹیویٹی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کیس کا درجہ بڑھنے سے پراسیکیوشن کو جدید فرانزک ٹیکنالوجی اور ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے درکار وسائل تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جو پہلے دستیاب نہیں تھے۔
مقدمے کی نوعیت سنگین ہونے کے باوجود، مرکزی ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ آلہ قتل کی برآمدگی ابھی تک ایک بڑا چیلنج ہے، اور پولیس کی کارکردگی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ کتنی جلدی ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ چالان عدالت میں پیش کرتی ہے۔
صوبائی حکومت پر اب دباؤ ہے کہ وہ اس کیس کو محض ‘اعلان’ تک محدود نہ رکھے۔ مقتولہ کے خاندان کو خدشہ ہے کہ میڈیا کی توجہ ہٹتے ہی تحقیقات کی رفتار دوبارہ سست نہ پڑ جائے۔
وزارتِ داخلہ نے نئی تفتیشی ٹیم کو 72 گھنٹوں کے اندر ابتدائی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ ڈیڈ لائن ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا پولیس واقعی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا یہ فیصلہ صرف عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
