کراچی: مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی سے رشوت لینے کے الزام میں برطرف کیے گئے ایک پولیس کانسٹیبل کی دوبارہ ملازمت پر بحالی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق اسی اہلکار نے بعد میں پنکی کو ٹریس کرنے اور اس کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا۔dsxqd
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کانسٹیبل پر پہلے الزام تھا کہ اس نے پنکی کے نیٹ ورک کو سہولت دی اور اس سے رقم وصول کی۔ محکمانہ انکوائری کے بعد اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
تاہم اب معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینئر پولیس افسران نے بعد میں اسی اہلکار کو پنکی کا سراغ لگانے کی ذمہ داری دی، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر ایک ہفتے کے اندر ملزمہ کا پتا لگا لیا۔ پولیس حلقوں میں یہ نکتہ زیر غور ہے کہ آیا اس کردار کی بنیاد پر اسے دوبارہ سروس میں لیا جا سکتا ہے۔
پنکی کیس نے پولیس کے اندر مبینہ رابطوں اور رشوت کے الزامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تفتیش کے دوران پنکی سے منسوب بیانات میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مختلف تھانوں کے اہلکار ماہانہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے تک رشوت لیتے تھے۔ حکام نے تاحال ان تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، اس لیے معاملہ ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہے۔
اسی کیس میں کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے دو اہلکاروں کو بھی مبینہ روابط پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں اے ایس آئی کفیل اور کانسٹیبل علی قریشی شامل ہیں، جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
سندھ پولیس کی قیادت بھی اس معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پنکی کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق کئی اہم نام سامنے آئے ہیں، جن کی تصدیق کے بعد مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پنکی کو عدالتوں میں بھی کئی مقدمات کا سامنا ہے۔ کراچی کی ایک عدالت نے قتل کے مقدمے میں اس کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی، جبکہ منشیات سمیت دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران پنکی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پر “نام لینے” کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ جس اہلکار کو پہلے پنکی سے تعلقات اور رشوت کے الزامات پر برطرف کیا گیا، کیا اسے صرف اس بنیاد پر بحال کیا جا سکتا ہے کہ اس نے بعد میں گرفتاری میں مدد کی؟ پولیس کے اندر یہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی، اور ممکنہ بحالی پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
