میامی، 12 ستمبر 2026: بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کا سیزن اگست کے وسط تک پہنچنے کے باوجود اب تک ایک بھی ہریکین پیدا نہیں کرسکا، جس نے ماہرینِ موسمیات کو اس غیر معمولی صورتحال کی وجوہات تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
عام طور پر اس عرصے کے دوران بحرِ اوقیانوس میں طوفانی سرگرمیاں تیزی اختیار کرنا شروع ہوجاتی ہیں، لیکن اس مرتبہ سمندری خطہ غیر معمولی طور پر پُرسکون ہے۔
1968 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں سیزن کے اس مرحلے تک ایک بھی نامزد ہریکین تشکیل نہیں پایا۔
سمندر کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر، مگر طوفان غائب
طوفانوں کی عدم موجودگی کی وجہ سمندر میں گرمی کی کمی نہیں ہے۔ بحرِ اوقیانوس کے مرکزی طوفانی خطے، جو افریقہ کے مغربی ساحل سے لے کر کیریبین تک پھیلا ہوا ہے، میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند ہے۔
عام حالات میں یہ گرم پانی سمندری طوفانوں کو توانائی فراہم کرتا ہے اور افریقہ کے ساحل سے نکلنے والی استوائی لہریں تیزی سے طاقتور طوفانوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
لیکن اس مرتبہ ماحول نے طوفانوں کو منظم ہونے کا موقع نہیں دیا۔
صحارا کے صحرا سے اٹھنے والی خشک اور گرد آلود ہوا بحرِ اوقیانوس پر پھیل گئی ہے، جس سے بادل بننے کا عمل متاثر ہوا اور طوفانی نظام کمزور پڑ گئے۔ اس کے علاوہ ناموافق ہوائی جھکاؤ، جسے ونڈ شیئر کہا جاتا ہے، نے بھی طوفانوں کے ڈھانچے کو تشکیل پانے سے پہلے ہی منتشر کردیا۔
فضائی حالات طوفان بننے کی راہ میں رکاوٹ
ماہرینِ موسمیات کے مطابق موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ طوفان بننے کے لیے ضروری کئی عوامل پہلے ہی موجود ہیں۔
سمندر کا گرم درجہ حرارت طوفانوں کو توانائی فراہم کررہا ہے، جبکہ ایل نینو سے لا نینا کی جانب متوقع تبدیلی بھی عام طور پر بحرِ اوقیانوس میں ہوائی جھکاؤ کو کم کرتی ہے، جس سے ہریکین بننے کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
تاہم اس مرتبہ فضا نے متوقع انداز میں ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
ایک تجربہ کار ہریکین محقق کے مطابق سمندر میں گرمی موجود ہے، لیکن فضا بہت خشک ہے اور بالائی سطح کی ہوائیں بھی غیر معمولی طور پر بے ترتیب ہیں۔
ان حالات نے ایک ایسی فضائی رکاوٹ پیدا کردی ہے جو افریقہ سے آنے والی استوائی لہروں کو طاقتور طوفانوں میں تبدیل ہونے سے روک رہی ہے۔
ابتدائی پیش گوئیوں سے بالکل مختلف صورتحال
بحرِ اوقیانوس میں موجودہ خاموشی سال کے آغاز میں جاری کی گئی پیش گوئیوں کے بالکل برعکس ہے۔
مئی میں نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن، یعنی NOAA، نے خبردار کیا تھا کہ اس سال بحرِ اوقیانوس میں معمول سے زیادہ یا انتہائی سرگرم ہریکین سیزن ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے اپنی پیش گوئی کی ایک بڑی وجہ ایل نینو سے لا نینا کی جانب ممکنہ تبدیلی کو قرار دیا تھا۔
لا نینا عام طور پر بحرِ اوقیانوس میں عمودی ہوائی جھکاؤ کو کم کرتی ہے، جس سے سمندری طوفانوں کو اپنی ساخت برقرار رکھنے اور تیزی سے طاقتور ہونے میں مدد ملتی ہے۔
اس کے باوجود اب تک بحرِ اوقیانوس میں طوفانی سرگرمی انتہائی کم رہی ہے۔
سیزن کا خطرناک ترین حصہ ابھی باقی ہے
موجودہ خاموشی نے ان ساحلی آبادیوں کو وقتی ریلیف فراہم کیا ہے جو گزشتہ برسوں میں تباہ کن ہریکینز کا سامنا کرچکی ہیں۔
تاہم ماہرینِ موسمیات شہریوں کو خبردار کررہے ہیں کہ سیزن کی خاموش ابتدا کو مکمل طور پر پُرامن اختتام کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔
تاریخی طور پر بحرِ اوقیانوس میں ہریکین سیزن کا سب سے زیادہ سرگرم دور تقریباً 20 اگست سے 10 اکتوبر تک ہوتا ہے۔
اس عرصے کے دوران سمندر کا درجہ حرارت بلند رہتا ہے، استوائی لہروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور فضائی حالات تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔
صحارا کی خشک ہوا اور ناموافق ونڈ شیئر، جو اس وقت طوفانوں کو روک رہے ہیں، کمزور پڑسکتے ہیں یا مکمل طور پر ختم ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں سمندری طوفان تیزی سے تشکیل پاسکتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دیر سے شروع ہونے والا سیزن بھی خطرناک ہوسکتا ہے
ماضی کے ہریکین سیزنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیزن کی پُرسکون ابتدا اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ اختتام بھی محفوظ رہے گا۔
1992 میں بحرِ اوقیانوس کا سیزن 24 اگست تک غیر معمولی طور پر خاموش رہا۔ اس کے بعد ہریکین اینڈریو تشکیل پایا اور جنوبی فلوریڈا سے ٹکرایا۔
یہ طوفان کیٹیگری 5 کی شدت تک پہنچا، جس نے گھروں کو تباہ کیا، آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا اور امریکی تاریخ کے تباہ کن ترین طوفانوں میں جگہ بنائی۔
یہ مثال ماہرین اور شہریوں کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ بحرِ اوقیانوس کئی ہفتوں تک خاموش رہنے کے بعد اچانک ایک بڑے ہریکین کو جنم دے سکتا ہے۔
ساحلی آبادیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
خلیجِ میکسیکو کے ساحلی علاقوں سے لے کر امریکا کے مشرقی ساحل تک رہنے والے شہریوں کو موجودہ خاموشی کے باوجود تیار رہنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔
حکام نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انخلا کے منصوبوں کا جائزہ لیں، ہنگامی سامان تیار رکھیں اور پورے سیزن کے دوران سرکاری موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
سمندر میں موجود حرارت اس قدر زیادہ ہے کہ اگر کسی استوائی نظام کو سازگار فضائی حالات مل جائیں تو وہ تیزی سے طاقتور ہوسکتا ہے۔
ایک کمزور یا غیر منظم طوفانی نظام بھی چند دنوں میں بڑے ہریکین میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
خاموشی کا مطلب خطرہ ختم ہونا نہیں
فی الحال بحرِ اوقیانوس غیر معمولی طور پر پُرسکون ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہریکین کی عدم موجودگی کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ پورا سیزن پُرامن رہے گا۔
سمندر اب بھی گرم ہے، ہریکین سیزن ابھی ختم نہیں ہوا اور طوفانوں کو روکنے والے فضائی حالات تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔
موجودہ خاموشی ممکنہ طور پر خطرے کے خاتمے کی علامت نہیں بلکہ صرف ایک عارضی تاخیر ہے۔
