کراچی کے ساحل منوڑہ کے قریب سمندر میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ساحل پر نہانے پر پابندی کے باوجود دونوں افراد گہرے پانی میں اتر گئے تھے۔
حادثہ اتوار کی دوپہر پیش آیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں نوجوان ویک اینڈ منانے ساحل پر آئے تھے، تاہم لہروں کے تیز بہاؤ اور ’رپ کرنٹ‘ کی زد میں آ کر اپنی جان گنوا بیٹھے۔
موقع پر موجود ایک غوطہ خور نے صحافیوں کو بتایا کہ "بریک واٹر کے قریب پانی کا بہاؤ بہت شدید تھا، آج سمندر کی لہریں غیر معمولی طور پر طوفانی تھیں اور یہ علاقہ ماہر تیراکوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان نیوی اور ایدھی فاؤنڈیشن کی واٹر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ تین گھنٹے طویل آپریشن کے بعد دونوں لاشیں تلاش کر لی گئیں۔ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
کراچی کے ساحلوں پر ہر سال مون سون کے موسم میں اس طرح کے حادثات معمول بن چکے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ انتباہی بورڈز اور پولیس گشت کے باوجود سیاح اکثر حفاظتی رکاوٹیں عبور کر کے ممنوعہ علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔
مقامی سطح پر ساحلی تفریحی مقامات پر حفاظتی باڑ کی کمی اور لائف گارڈز کی ناکافی تعداد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے، لیکن ہر چند روز بعد پیش آنے والے یہ واقعات حفاظتی اقدامات کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
فی الحال منوڑہ کے ساحل پر تیراکی پر مکمل پابندی عائد ہے اور انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سمندری حالات کے معمول پر آنے تک ساحل کا رخ نہ کریں۔
