نومی کلائن اور آسٹرا ٹیلر نے موسمیاتی تبدیلیوں پر جاری عالمی بحث کا رخ موڑ دیا ہے۔ اپنی تازہ ترین کاوشوں میں، یہ دونوں دانشور اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ "دنیا کا خاتمہ” اب کوئی دور دراز کی پیش گوئی یا فلمی منظرنامہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے جو آج ہماری سیاسی اور معاشی ترجیحات کے عین مرکز میں کھڑی ہے۔
کئی دہائیوں تک، ماحولیاتی تحریکوں نے "مستقبل” کے خوف کا سہارا لیا۔ کارکنوں نے آنے والی نسلوں کو ڈرایا کہ اگر ہم نہ سنبھلے تو کیا ہوگا۔ کلائن اور ٹیلر کا ماننا ہے کہ یہ بیانیہ اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق، تباہی کا وقت مستقبل میں نہیں، بلکہ حال میں ہے اور ہم اسی کے اندر جی رہے ہیں۔
نومی کلائن نے اپنی حالیہ گفتگو میں واضح کیا کہ "دنیا کا خاتمہ اب ایک مفروضہ نہیں بلکہ میز پر موجود ایک حقیقت ہے۔” ان کا استدلال سادہ مگر ہولناک ہے: عالمی معیشت نے طویل مدتی بقا کے بجائے قلیل مدتی منافع کو ترجیح دے کر اس تباہی کی بنیاد خود ہی رکھ دی ہے۔
یہ صورتحال صرف درجہ حرارت بڑھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ ‘پولی کرائسس’ کا دور ہے، جہاں معاشی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی آمریت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہجرت جیسے بحران ایک ساتھ سر اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہی نظام کی ناکامی ہے جس کی پیش گوئی ماہرین نے 2050 کے لیے کی تھی، مگر یہ ہم سے تین دہائیاں پہلے ہی ٹکرا چکی ہے۔
یہ دونوں مصنفین ان بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں کی ‘سبز ترقی’ والی خوش فہمی کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی ماڈل اور جمہوریت کے درمیان جو ٹکراؤ ہے، اسے صرف کاربن کریڈٹس یا ٹیکنالوجی کے سہارے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دنیا کو بچانا ہے، تو اس پورے معاشی ڈھانچے کو بدلنا ہوگا جو ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مخالفین اکثر اس نقطہ نظر کو مایوس کن یا حد سے زیادہ جذباتی قرار دیتے ہیں۔ تاہم، کلائن اور ٹیلر کا ماننا ہے کہ حقیقت کا اعتراف کرنا مایوسی نہیں، بلکہ پہلا قدم ہے۔ ان کے نزدیک، اب وقت ضائع کرنے کا نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کا ہے کہ جو حل اب تک پیش کیے گئے، وہ اس بحران کی شدت کے مقابلے میں ناکافی تھے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا ختم ہو رہی ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس ملبے کے ڈھیر پر ہم کیا تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی ہموار راستے سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ایک کھلی جنگ ہوگی کہ وسائل کس طرح تقسیم کیے جائیں اور بقا کا حق کسے ملے۔
گھڑی اب کسی آنے والے خطرے کی طرف اشارہ نہیں کر رہی۔ وہ اس رفتار کو ماپ رہی ہے جس سے ہم اس تباہی پر ردعمل دینے کا انتخاب کر رہے ہیں جو پہلے ہی ہمارے دروازے پر دستک دے چکی ہے۔
