شمالی بھارت کے ایک شہر میں منگل کے روز ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ آگ علی الصبح لگی، جس نے مکینوں کو عمارت کے تنگ راستوں میں پھنسا کر رکھ دیا۔
فائر بریگیڈ کے عملے نے ہائیڈرالک سیڑھیوں کی مدد سے کئی افراد کو بالکونیوں سے بحفاظت نکالا، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ امداد دیر سے پہنچی۔ مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مرنے والوں میں کئی بچے اور بزرگ شامل ہیں جو دھوئیں سے بھرے راہداریوں سے باہر نکلنے میں ناکام رہے۔
ریاستی حکومت نے واقعے کی اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے والے آلات اور ہنگامی اخراج کے راستوں سمیت بنیادی حفاظتی اقدامات کا فقدان تھا۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ "آگ انتہائی تیزی سے پھیلی۔ ہم نے چیخیں سنیں، لیکن گرمی اتنی شدید تھی کہ مرکزی دروازے کے قریب جانا ناممکن تھا۔”
ضلعی حکام اب پورے علاقے کی عمارتوں کے پرمٹ کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ بھارت میں ایسے سانحات کے بعد اکثر تحقیقات کی جاتی ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حفاظتی قوانین پر عملدرآمد میں کوتاہی اور کرپشن کے باعث غیر قانونی عمارتیں بغیر کسی نگرانی کے کام کر رہی ہیں۔
اگرچہ فوری توجہ متاثرین کی شناخت اور ہسپتال میں زیر علاج درجن بھر افراد کی طبی امداد پر مرکوز ہے، لیکن اس سانحے نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ آگ بجھنے کے چند گھنٹے بعد ہی متاثرین کے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے عمارت کے مالکان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
ریاستی وزیر اعلیٰ نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، لیکن ان لوگوں کے لیے جن کا سب کچھ اس آتشزدگی میں خاکستر ہو گیا، یہ حکومتی وعدے اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ آخر بغیر حفاظتی سرٹیفکیٹ کے اس عمارت کو رہائشی مقاصد کے لیے کیسے استعمال کیا جا رہا تھا۔
فارنسک ٹیمیں اب عمارت کے ملبے سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ دوسری جانب، شہر کی میونسپل کارپوریشن پر یہ واضح کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اتنی گنجان آباد عمارت کو فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر کیسے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
