پنجاب بار کونسل نے ان دو وکلاء کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے ہیں جن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ویڈیو میں ان وکلاء کو ضلعی عدالت کے احاطے میں ایک ملزم کو ہراساں کرتے اور زبردستی معافی مانگنے پر مجبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ عدالتی وقار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ وکلاء نے ملزم کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہ اسے اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہونے اور معافی مانگنے کا کہہ رہے ہیں۔ دباؤ میں آیا ہوا ملزم بظاہر خوفزدہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ وکلاء اسے مسلسل دھمکا رہے ہیں۔
پنجاب بار کونسل نے منگل کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا کہ وکلاء کا یہ رویہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے شعبہ وکالت کی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ کونسل نے دونوں وکلاء کو انکوائری مکمل ہونے تک کسی بھی عدالت میں پیش ہونے سے روک دیا ہے۔
بار کونسل کے ایک سینئر رکن نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ "عدالت میں وکالت کا مطلب قانونی معاونت ہے، کسی کو ہراساں کرنا نہیں۔” کونسل نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے دس روز کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اگرچہ متعلقہ وکلاء کا موقف ہے کہ وہ اپنے موکل کے لیے انصاف مانگ رہے تھے، تاہم قانونی ماہرین کے نزدیک کسی ملزم کو زبردستی معافی پر مجبور کرنا عدالتی عمل کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ نچلی عدالتوں میں اس قسم کے رویے اکثر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہوتے ہیں، جہاں طاقت کا توازن اکثر قانون کے اصولوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
اب تک ملزم کی جانب سے کوئی باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی، تاہم بار کونسل نے ادارے کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ازخود نوٹس لیا ہے۔ انکوائری کے نتائج ہی طے کریں گے کہ ان وکلاء کا مستقبل کیا ہوگا، لیکن فی الحال، یہ معطلی عدالتی حلقوں میں ایک واضح پیغام ہے کہ قانون کے رکھوالوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
