امریکی محکمہ انصاف نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے یونیورسٹیوں میں سام دشمنی کے واقعات کی تحقیقات کے دوران سیاسی دباؤ کے تحت کام کیا یا تحقیقات کو دانستہ طور پر سست کیا۔
یہ تنازع محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن کے ایک سابق اہلکار کی جانب سے سامنے آنے والی شکایت کے بعد شروع ہوا۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ تھا کہ محکمے کے اعلیٰ حکام نے سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک کے خلاف کارروائیوں میں تاخیر کی۔ سابق اہلکار کے مطابق، سول رائٹس ایکٹ کے سیکشن VI کے تحت کارروائی کے لیے محکمے کے اندر ایک غیر معمولی ہچکچاہٹ پائی جاتی تھی تاکہ بڑے تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہوں۔
محکمہ انصاف کے ترجمان نے منگل کو ایک مختصر بیان میں ان الزامات کو "بے بنیاد” قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سول رائٹس ڈویژن اپنی تحقیقاتی ترجیحات کے تعین میں مکمل طور پر خودمختار ہے اور اس کا کام شواہد پر مبنی ہے۔ محکمے کے مطابق، اس وقت بھی تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک سے متعلق متعدد تحقیقات جاری ہیں اور ان پر قانون کے مطابق عمل ہو رہا ہے۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی تعلیمی ادارے شدید دباؤ میں ہیں۔ سات اکتوبر کے واقعات کے بعد سے امریکی یونیورسٹیوں میں سام دشمنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قانون سازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے محکمہ انصاف اور محکمہ تعلیم سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا ردعمل سست اور غیر مؤثر ہے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ طلبہ کے تحفظ اور آزادی اظہار کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
شکایت کنندہ نے کانگریس کی نگرانی کرنے والی کمیٹیوں کو کچھ اندرونی میموز بھی فراہم کیے ہیں، جن میں مبینہ طور پر یہ تجویز دی گئی تھی کہ نجی یونیورسٹیوں کے معاملے میں "نرم رویہ” اختیار کیا جائے۔ ان دستاویزات میں محکمے کے درمیانے درجے کے وکلاء کے تحفظات کا ذکر ہے، جن کا ماننا تھا کہ ان کی تجاویز کو سیاسی طور پر تعینات عہدیداروں نے مسترد کر دیا۔
ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے ریپبلکن ارکان نے اس معاملے پر محکمہ انصاف سے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ایک "نظامی ناکامی” کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ محکمہ انصاف نے ابھی تک وہ اندرونی دستاویزات فراہم نہیں کیں جن کا مطالبہ کمیٹی نے کیا ہے، لیکن توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس میں اس پر مزید سخت سوالات اٹھائے جائیں گے۔
محکمہ انصاف کا اصرار ہے کہ ہر کیس کی کارروائی کا فیصلہ اس کے میرٹ پر کیا جاتا ہے، نہ کہ سیاسی مفادات پر۔ تاہم، کانگریسی تحقیقات کے دباؤ میں یہ دفاع کتنا موثر ثابت ہوگا، اس کا دارومدار ان دستاویزات پر ہے جو جلد ہی عوامی سطح پر سامنے آ سکتی ہیں۔
