وفاقی حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو صوبائی سطح پر منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے رواں ہفتے اس تجویز کی تصدیق کی، جس سے غربت کے خاتمے کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم اور انتظام کے طریقہ کار میں تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے۔
بی آئی ایس پی طویل عرصے سے وفاقی سطح پر ایک مرکزی پروگرام کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ پروگرام اس وقت ملک بھر میں تقریباً 93 لاکھ خاندانوں کو براہ راست نقد امداد فراہم کرتا ہے۔ اس وسیع تر نظام کو صوبائی تحویل میں دینے کے لیے قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کو حل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر قومی ڈیٹا بیس کی تقسیم اور مقامی سطح پر مالی بوجھ اٹھانے کے معاملات میں۔
موجودہ مرکزی نظام کے ناقدین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد سے چلنے والی فلاحی پالیسیوں میں کارکردگی کا فقدان ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے علاقوں میں "انتہائی غریب” طبقے کی نشاندہی کرنے کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ تاہم، اس تبدیلی کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ اختیارات کی منتقلی سے امداد کی تقسیم سیاسی رنگ اختیار کر سکتی ہے، جہاں صوبائی انتظامیہ اپنے ووٹرز کو نوازنے کے لیے ڈیٹا بیس کا استعمال کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پر بین الاقوامی قرض دہندگان کی جانب سے سماجی اخراجات کو منظم کرنے کا دباؤ ہے۔ اگرچہ اس منتقلی کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صوبے اس پروگرام کا مالی اور تکنیکی بوجھ اٹھانے کے اہل ہیں، جو ایک دہائی سے وفاق کا اہم ستون رہا ہے؟
فی الحال، وفاقی حکومت "نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری” (NSER) کا انتظام سنبھالتی ہے، جو بی آئی ایس پی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر کنٹرول صوبوں کو منتقل ہوتا ہے تو ڈیٹا کی ملکیت سب سے بڑا تنازع بن کر ابھرے گی۔ ڈیٹا شیئرنگ پر کسی واضح معاہدے کے بغیر، پروگرام کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ ہے، جس سے لاکھوں مستحق خاندان بیوروکریسی کے مسائل میں الجھ سکتے ہیں۔
فی الحال یہ تجویز ابتدائی پالیسی مباحثوں کے مرحلے میں ہے۔ اس حوالے سے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی اور توقع ہے کہ وفاقی حکومت حتمی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے سے قبل صوبائی وزرائے خزانہ کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ شروع کرے گی۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ فیصلہ حقیقی معنوں میں مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے یا محض انتظامی اخراجات کا بوجھ صوبوں پر ڈالنے کی ایک کوشش۔ اس کا حتمی نتیجہ ان لاکھوں خاندانوں کے لیے اہم ہوگا جن کا گزر بسر ماہانہ وظیفے پر منحصر ہے۔
