سپریم کورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں بیوہ کی جانب سے اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد پر حق ملکیت کو حتمی قرار دیتے ہوئے شوہر کے ورثاء اور سسرالی رشتہ داروں کے دعوے مسترد کر دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد ملنے والی جائیداد پر بیوہ کا حق مکمل اور غیر مشروط ہے، اور سسرالی رشتہ داروں کو اس میں مداخلت کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب شوہر کے انتقال کے بعد اس کے بہن بھائیوں اور دیگر ورثاء نے جائیداد پر اپنا حق جتانا شروع کیا۔ ان کا موقف تھا کہ خاندانی روایات اور جدی پشتی جائیداد کے قوانین کے تحت وہ بھی اس اثاثے میں حصہ دار ہیں۔ جسٹس [جج کا نام] کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ موجودہ قوانین کے تحت بیوہ محض جائیداد کی نگران نہیں بلکہ اس کی مکمل مالک ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ "قانون کسی ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دیتا جہاں بیوہ کو اس کے شوہر کے خاندان کے لیے صرف ایک عارضی محافظ سمجھا جائے۔” ججوں نے نشاندہی کی کہ سسرالی ورثاء کے پاس ایسا کوئی قانونی جواز نہیں جس کی بنیاد پر وہ بیوہ کو جائیداد بیچنے، تحفہ دینے یا اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنے سے روک سکیں۔
یہ فیصلہ ان ہزاروں بیواؤں کے لیے ایک بڑی قانونی ڈھال ثابت ہوگا جو شوہر کے انتقال کے فوراً بعد سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کا سامنا کرتی ہیں۔ اکثر یہ ہتھکنڈے بیوہ کو جائیداد سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس سخت موقف نے واضح کر دیا ہے کہ اب اس طرح کے "دباؤ ڈالنے والے مقدمات” عدالتوں میں زیادہ دیر نہیں ٹک سکیں گے۔
ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ بیواؤں سے متعلق جائیداد کے تنازعات میں برسوں سے جاری مقدمہ بازی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ عدالت نے یہ طے کر دیا ہے کہ بیوہ کی ملکیت کا حق مطلق ہے، جس سے نچلی عدالتوں میں دہائیوں سے زیر التواء دعووں کا راستہ بند ہو گیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں خاندانی معاملات میں "بے نامی” یا زبانی معاہدوں کے دعووں کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک ورثاء کے پاس کسی تحریری قانونی معاہدے کا ٹھوس ثبوت نہ ہو—جو کہ عام طور پر ایسے تنازعات میں موجود نہیں ہوتا—بیوہ کا قبضہ قانونی طور پر محفوظ رہے گا۔
یہ فیصلہ جائیداد کے ان فرسودہ تصورات سے دوری ہے جو بیوہ کے بجائے شوہر کے خونی رشتہ داروں کو فوقیت دیتے تھے۔ اب قانون کی نظر میں بیوہ کا حق سسرالیوں کی طرف سے دیا گیا کوئی احسان نہیں، بلکہ ایک اٹل قانونی حقیقت ہے۔
