جب جنگل کی آگ ایک خاص حد سے زیادہ گرم اور وسیع ہو جائے، تو یہ صرف موسم کے رحم و کرم پر نہیں رہتی بلکہ خود اپنا موسم پیدا کرنے لگتی ہے۔
سائنسی اصطلاح میں اسے ‘پائرو کیومولونیمبس’ کہا جاتا ہے۔ یہ درحقیقت آگ کی تپش سے پیدا ہونے والے وہ خوفناک بادل ہیں جو فضا میں ایک عفریت کی طرح ابھرتے ہیں۔ جب آگ کی تپش تیزی سے اوپر کی طرف اٹھتی ہے، تو یہ ایک بڑے کالم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ بالائی فضا میں پہنچ کر یہ نمی ٹھنڈی ہو کر بادل بن جاتی ہے، جو ایک چمنی کی طرح کام کرتے ہوئے نیچے موجود آگ کو مزید آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور شعلوں کو مزید بھڑکاتے ہیں۔
یہ بادل محض بارش نہیں برساتے بلکہ آگ کے اصل مقام سے میلوں دور بجلی گراتے ہیں۔ یہ بجلی خشک جھاڑیوں پر گر کر نئی آگ بھڑکا دیتی ہے، جس سے تباہی کا ایک ایسا خودکار چکر شروع ہوتا ہے جسے روکنا انسانی بس سے باہر ہو جاتا ہے۔
وائلڈ فائر کے ایک ماہرِ موسمیات کا کہنا ہے کہ "یہ ایک ایسا فیڈ بیک لوپ ہے جو فائر فائٹنگ کی روایتی حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اب آپ صرف زمین پر لگی آگ سے نہیں لڑ رہے ہوتے، بلکہ ایک ایسے موسمی نظام کا مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں جو خود کو پھیلانے کے لیے سرگرم ہوتا ہے۔”
ان بادلوں سے پیدا ہونے والی ہوا کی رفتار انتہائی غیر متوقع اور شدید ہوتی ہے۔ جب یہ بادل اپنی انتہا کو پہنچ کر اچانک نیچے کی طرف بیٹھتے ہیں، تو ہوا کا یہ دباؤ انگاروں کو ہر سمت بکھیر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ ان شاہراہوں اور دریاؤں کو بھی عبور کر جاتی ہے جو عام طور پر اسے روکنے کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔
زمینی عملے کے لیے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ جو آگ بظاہر قابو میں نظر آتی ہے، وہ ان بادلوں کی وجہ سے چند منٹوں میں رخ بدل کر شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اس دوران پیدا ہونے والی تپش اتنی شدید ہوتی ہے کہ فائر فائٹرز کی گاڑیاں اور آلات تک پگھل سکتے ہیں۔
ماضی میں ایسے واقعات شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے تھے اور انہیں ‘غیر معمولی’ سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسا نہیں رہا۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور خشک سالی نے ان ‘فائر اسٹورمز’ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اب یہ کثرت سے رونما ہو رہے ہیں۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فائر ایجنسیوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دی ہے۔ اب سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے ان بادلوں کی تشکیل پر نظر رکھی جاتی ہے۔ جیسے ہی ریڈار پر ‘پائرو سی بی’ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں، عملے کو فوری طور پر پیچھے ہٹنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ اب ترجیح آگ بجھانا نہیں بلکہ جان بچانا بن چکی ہے۔
