مصنوعی ذہانت بنانے والی معروف کمپنی ‘اینتھروپک’ کے ایک اہم محقق لیوپولڈ ایشین برینر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈسٹری میں جاری مصنوعی ذہانت کی اندھی دوڑ نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ استعفیٰ اس بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاسی کرتا ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کمرشل اہداف اور حفاظتی معیارات کے درمیان پیدا ہو رہی ہے۔
ایشین برینر، جو اینتھروپک میں اے آئی سسٹمز کی حفاظت اور ان کی انسانی اقدار سے ہم آہنگی پر کام کر رہے تھے، نے خبردار کیا ہے کہ کمپنیاں ‘تیزی سے ترقی اور چیزیں توڑنے’ کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے مطابق، جب بات سپر انٹیلیجنس کی ہو تو یہ حکمت عملی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ ہم ایسے سسٹمز بنا رہے ہیں جنہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہم کھو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت اربوں ڈالر کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اینتھروپک، اوپن اے آئی، اور گوگل جیسے بڑے نام اپنی کمپیوٹنگ پاور اور پیرامیٹرز کو بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ایشین برینر کا ماننا ہے کہ کمپنیاں عوامی سطح پر حفاظت کا راگ تو الاپتی ہیں، مگر اندرونی طور پر ان کی ترجیح صرف پروڈکٹ کی جلد از جلد لانچ ہے۔ یہ تضاد ایک ‘سیکیورٹی گیپ’ پیدا کر رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے خطرات سمجھنے سے پہلے ہی اسے مارکیٹ میں اتار دیا جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس رجحان کا تسلسل ہے جو حال ہی میں اوپن اے آئی سے جان لیک اور ایلیا ستسکیور جیسے ماہرین کے استعفوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے برسوں تک ان سسٹمز کا آرکیٹیکچر ڈیزائن کیا، اور اب وہی اس کی رفتار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ محض نوکری چھوڑنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ان ماہرین کا انتباہ ہے جو جانتے ہیں کہ پردے کے پیچھے اصل ٹیکنالوجی کس سمت جا رہی ہے۔
دوسری جانب، تنقید کرنے والے اسے مبالغہ آرائی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماہرین سائنسی فکشن کے خوف میں مبتلا ہیں اور اے آئی کے ان فوائد کو نظر انداز کر رہے ہیں جو ادویات کی تیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حفاظت کے نام پر سخت ضوابط اصل میں جدت پسندی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اینتھروپک نے اپنے قیام کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ اوپن اے آئی کے مقابلے میں ایک ‘ذمہ دار’ اور اخلاقیات پر مبنی کمپنی ہوگی۔ لیکن اپنے ہی حفاظتی محققین کے جانے کے بعد کمپنی کا یہ تشخص اب شدید دباؤ میں ہے۔
مصنوعی ذہانت کی یہ دوڑ اب صرف تکنیکی مہارت کا امتحان نہیں رہی، بلکہ یہ ان اداروں کے اخلاقی کردار کا امتحان بن چکی ہے۔ جیسے جیسے ماہرین ان کمپنیوں کو خیرباد کہہ رہے ہیں، انڈسٹری کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے وہ اب تک نظر انداز کرتی آئی ہے: کیا اگلی بڑی ایجاد کی خاطر انسانی خطرات کو نظر انداز کرنا واقعی سودمند ہے؟
