راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی جس پچ کو پاکستانی سپنرز کے لیے ‘ہتھیار’ کے طور پر تیار کیا گیا تھا، وہ پہلے ہی دن میزبان ٹیم کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئی۔ انگلینڈ کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر لڑکھڑا گئی اور محض 100 رنز پر اس کے 7 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے ہیں۔
کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو بظاہر غلط ثابت ہوا۔ انگلش کپتان بین اسٹوکس نے میچ کے آغاز سے ہی سپنرز کو آزمانے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا اور جیک لیچ نے پہلے ہی سیشن میں پاکستانی ٹاپ آرڈر کی بنیادیں ہلا دیں۔ صائم ایوب اور عبداللہ شفیق کی جوڑی ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
پاکستان کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب سیٹ ہونے کے بعد کپتان شان مسعود اور سعود شکیل بھی یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو گئے۔ بابر اعظم کی عدم موجودگی میں مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نظر نہ آیا۔ محمد رضوان نے کریز پر تھوڑا وقت گزارا لیکن وہ بھی ریحان احمد کی ایک شارپ گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر چلتے بنے۔
پچ کی تیاری کے لیے اسٹیڈیم میں بڑے بڑے پنکھے اور ہیٹرز لگائے گئے تھے تاکہ اسے مکمل خشک کر کے سپنرز کے لیے سازگار بنایا جا سکے۔ تاہم، انگلش سپنرز جیک لیچ اور شعیب بشیر نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ گیند نہ صرف غیر متوقع طور پر ٹرن ہو رہی ہے بلکہ اس کا باؤنس بھی بلے بازوں کو مسلسل پریشان کر رہا ہے۔
انگلینڈ کے لیے یہ دن اب تک بہترین رہا ہے۔ بین اسٹوکس نے فیلڈنگ میں ایسے جال بچھائے کہ پاکستانی بلے بازوں کے لیے سنگلز لینا بھی محال ہو گیا۔ پاکستانی ٹیم، جو ملتان ٹیسٹ کی جیت کے بعد پر اعتماد نظر آ رہی تھی، اب ایک بار پھر دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔
اب تمام تر بوجھ نچلے نمبروں پر آنے والے بلے بازوں پر ہے کہ وہ ٹیم کو کسی قابلِ ذکر مجموعے تک پہنچا سکیں۔ اگر پاکستان کل صبح کے پہلے سیشن میں بقیہ وکٹیں جلد گنوا دیتا ہے، تو انگلینڈ کو اس سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنے سے روکنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ پاکستان کے لیے اب واحد راستہ یہی ہے کہ وہ گیند بازی میں وہی کمال دکھائے جو انگلش سپنرز نے کر دکھایا ہے۔
