دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نِمز دائی پورجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتہ ہو گئے ہیں۔ 8,051 میٹر بلند اس پہاڑ پر موسم کی شدید خرابی کے باعث ریسکیو آپریشن تاحال معطل ہے۔
حادثہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب کوہ پیماؤں کا گروپ چوٹی کے قریب بالائی راستوں پر گامزن تھا۔ سکردو میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ بیس کیمپ کا لاپتہ ٹیم سے رابطہ برفانی تودہ گرنے کی اطلاعات کے کچھ دیر بعد ہی منقطع ہو گیا تھا۔
ابتدائی امدادی کارروائیاں زیادہ دیر جاری نہ رہ سکیں۔ شدید برف باری اور ہواؤں کی رفتار نے ریسکیو ہیلی کاپٹرز کو پرواز سے روک دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلے میں موسم کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ فی الحال کسی زمینی ٹیم کو بھی خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
محکمہ سیاحت کے ترجمان نے مختصر گفتگو میں کہا کہ "ہم ایک نازک صورتحال سے دوچار ہیں۔ موسم کی کھڑکی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، اور جب تک آسمان صاف نہیں ہوتا، مزید تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔”
نِمز دائی پورجا، جنہوں نے دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیوں کو ریکارڈ وقت میں سر کر کے شہرت حاصل کی تھی، اس مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کی گمشدگی کی خبر نے عالمی کوہ پیمائی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جو پہلے ہی قراقرم میں رواں سیزن کے دوران پیش آنے والے حادثات سے پریشان ہے۔
سکردو بیس کیمپ پر کوہ پیماؤں کے اہل خانہ اور معاونین کسی اطلاع کے منتظر ہیں۔ تودہ گرنے کے بعد سے پہاڑ کی بلندیوں سے موصول ہونے والے سیٹلائٹ سگنلز بھی غیر مستحکم ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک طوفانی موسم کی پیشگوئی کی ہے۔ اس پیشگوئی نے لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے، اور براڈ پیک پر اب خاموشی کا راج ہے۔
