مصنوعی ذہانت بنانے والی بڑی کمپنیاں اب اپنی ٹیکنالوجی کو تربیت دینے کے لیے ایک تاریک راستے پر گامزن ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، یہ کمپنیاں ‘مڈل مین’ یا درمیانی ٹھیکیداروں کے ذریعے لاکھوں کتابیں خرید رہی ہیں، جنہیں ڈیجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کرنے کے بعد تلف کیا جا رہا ہے۔
یہ عمل کاپی رائٹ قوانین سے بچنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بڑی کمپنیاں براہِ راست ملوث نظر نہیں آتیں۔ ٹھیکیداروں کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے کہ وہ کتابیں حاصل کریں، انہیں اسکین کریں، اور پھر جسمانی کاپیوں کو جلا دیں یا ردی میں تبدیل کر دیں تاکہ کسی بھی قسم کے قانونی آڈٹ کا امکان ختم ہو سکے۔
مصنفین اور پبلشرز کے لیے یہ محض رائلٹی کا نقصان نہیں، بلکہ ادبی ورثے کی توہین ہے۔ کتابیں، جو کبھی علم کا ذریعہ تھیں، اب مصنوعی ذہانت کے لیے صرف ‘خام مال’ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک بار جب کتاب کا متن الگورتھم میں فیڈ کر دیا جاتا ہے، تو اس کی جسمانی موجودگی کو ثبوت مٹانے کے لیے ختم کر دیا جاتا ہے۔
ایک قانونی تجزیہ کار نے اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ دراصل ڈیٹا کو ‘وائٹ واش’ کرنے کا عمل ہے۔ بڑی کمپنیاں سب کانٹریکٹرز کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ انہوں نے براہِ راست کاپی رائٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا پورا ماڈل چوری شدہ محنت پر کھڑا ہے۔”
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف یہ ادارے عوامی سطح پر ‘اخلاقی AI’ کے دعوے کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی بھوک اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ قوانین کے شکنجے میں آنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ انسانی تخلیقات کو ہڑپ کر لینا چاہتے ہیں۔
پبلشنگ انڈسٹری کے لیے سب سے بڑی مشکل اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہے کہ کس ماڈل کو تربیت دینے کے لیے کون سی کتاب استعمال کی گئی۔ چونکہ کتابیں تباہ کر دی جاتی ہیں اور ٹھیکیدار سخت ‘نان ڈسکلوزر ایگریمنٹس’ کے پابند ہوتے ہیں، اس لیے یہ ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے کہ کسی مشین نے کس مصنف کا کام چوری کیا ہے۔
اب عدالتوں میں ‘فیئر یوز’ کی نئی تعریف پر بحث جاری ہے۔ اگر عدالتیں یہ فیصلہ دیتی ہیں کہ کسی کتاب کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں بدل کر اسے تربیت کے لیے استعمال کرنا خلاف ورزی ہے، تو موجودہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی پوری بنیاد خطرے میں پڑ جائے گی۔
فی الحال، مشینیں کتابیں پڑھتی جا رہی ہیں اور الماریوں سے کتابیں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔
