گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں گلیشیئل جھیلوں کے پھٹنے اور شدید بارشوں کے بعد مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ پہاڑی راستے اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی بھاری مشینری تباہ شدہ پلوں اور مٹی کے تودوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔
تباہی کا مرکز بالائی ہنزہ، شگر اور غذر کے اضلاع ہیں۔ شاہراہ قراقرم کے کئی مقامات بلاک ہونے سے ہزاروں مقامی افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بلند مقامات پر واقع بستیوں میں خوراک، ادویات اور ایندھن کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جبکہ متبادل راستے نہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
گلگت میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک مقامی عہدیدار نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، "پانی کا ریلا صرف سطح بلند ہونے کا نام نہیں تھا، اس نے پہاڑی ڈھلوانوں کو ہی کاٹ کر رکھ دیا ہے۔” ان کے مطابق، گلیشیئل جھیلوں کے پھٹنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ چند ہفتے قبل مقامی سطح پر بنائے گئے عارضی راستے اور پل بھی بہہ گئے ہیں۔
خطے کے موسمیاتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے۔ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے بننے والی جھیلیں کسی بھی وقت خطرہ بن سکتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ابتدائی انتباہی نظام کے دعوے اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی دور دراز وادیوں میں انتباہ کے لیے چرواہوں اور گاؤں کے عمائدین کے باہمی رابطوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
معاشی اثرات فوری اور ہولناک ہیں۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں ملبے تلے دب چکی ہیں، جو سینکڑوں خاندانوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھیں۔ رسد کے راستے بند ہونے سے مقامی بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس نے پہلے سے تباہ حال گھرانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
فی الحال امدادی کام فضائی نگرانی اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے تک محدود ہیں۔ صوبائی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے اضافی بھاری مشینری کی درخواست کی ہے، لیکن مسلسل بارش اور گیلی مٹی کے باعث سڑکوں کی مرمت کا کام انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔
موسم صاف ہونے تک ان دیہات کا دنیا سے رابطہ بحال ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اونچی وادیوں میں بسنے والے ان خاندانوں کے لیے سڑک کی بحالی صرف سفر کا مسئلہ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ ہے۔
