فلامن ویل، فرانس — فرانس کے ساحلی شہر فلامن ویل میں واقع ایٹمی بجلی گھر کو جیلی فش کے غیر معمولی ریوڑ کے باعث اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنا پڑ گئی۔ سمندری حیات کا یہ غیر متوقع حملہ بجلی گھر کے کولنگ سسٹم میں رکاوٹ کا سبب بن رہا ہے۔
الیکٹرسٹی ڈی فرانس نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز بڑی تعداد میں جیلی فش پلانٹ کے واٹر انٹیک فلٹرز میں پھنس گئیں۔ ایٹمی ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سمندری پانی کا مسلسل بہاؤ ضروری ہوتا ہے، لیکن جیلی فش کے اس ہجوم نے پانی کی سپلائی لائنوں کو بلاک کر دیا، جس کے بعد انجینئرز کو مجبوراً ری ایکٹرز کی پاور کم کرنی پڑی۔
یہ کوئی مکینیکل خرابی نہیں بلکہ ماحولیاتی مداخلت کا معاملہ ہے۔ جب جیلی فش بڑی مقدار میں انٹیک پائپوں میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک قدرتی رکاوٹ بن جاتی ہیں، جس سے اندرونی کولنگ سسٹم کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پلانٹ کا حفاظتی نظام توقع کے مطابق فعال رہا، تاہم یہ واقعہ ساحلی تنصیبات کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے کمزور ہونے کی ایک تازہ مثال ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق سمندری پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے جیلی فش کی آبادی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ ماضی میں بھی جاپان اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ساحلی پاور پلانٹس کو اسی طرح کی "حیاتیاتی بندشوں” کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔
پلانٹ انتظامیہ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ پیداوار مکمل بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ فی الحال انجینئرز فلٹریشن سسٹم کی صفائی میں مصروف ہیں تاکہ پانی کا بہاؤ معمول پر لایا جا سکے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید ترین ایٹمی ٹیکنالوجی بھی سمندری حیات کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے۔ جب تک جیلی فش کا یہ ریوڑ سمندری لہروں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ جاتا، تب تک فلامن ویل پلانٹ کو محدود صلاحیت پر ہی کام کرنا پڑے گا۔
