مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی آج نئے قائدِ ایوان کے چناؤ کے لیے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے ناگزیر تھی۔
سیاسی جوڑ توڑ کا عمل گزشتہ روز اپنے عروج پر رہا، جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چوہدری طارق فاروق کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ منگل کی شب کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جانے کے بعد سے ایوانِ اقتدار میں سرگرمیوں کا مرکز بدل چکا ہے۔
آج ہونے والے انتخاب میں کامیابی کا انحصار نمبر گیم پر ہے۔ اسمبلی میں موجودہ تقسیم کے پیشِ نظر، آزاد امیدواروں اور اتحادی جماعتوں کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت گزشتہ 24 گھنٹوں سے مختلف دھڑوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ایوان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کی جا سکے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کا گروپ بھی متحرک ہے۔ اپوزیشن کی حکمتِ عملی کیا ہوگی اور آیا وہ کوئی متفقہ امیدوار سامنے لائیں گے یا نہیں، یہ آج کے اجلاس کا سب سے اہم پہلو ہے۔
مظفرآباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسمبلی ہاؤس کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے تاکہ سیاسی کارکنوں کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
یہ خالی نشست ایک طویل قانونی اور آئینی کشمکش کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے خطے کو طویل عرصے تک بغیر مستقل حکومت کے رکھا۔ نئے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو آتے ہی بجٹ کے مسائل اور بجلی کے ٹیرف سمیت عوامی مشکلات کے انبار کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسمبلی کا اجلاس دوپہر 2 بجے طلب کیا گیا ہے۔ آج غروبِ آفتاب تک یہ واضح ہو جائے گا کہ خطے کو ایک مستحکم حکومت ملتی ہے یا پھر سیاسی تعطل مزید طول پکڑتا ہے۔
