لاہور — پنجاب حکومت نے صوبے کے بڑے کینسر ہسپتالوں میں پانچ نئی کرائیو ایبلیشن مشینیں نصب کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ٹیومر کے علاج کے لیے درپیش طویل انتظار کی فہرستوں کو ختم کرنا اور جدید طبی سہولیات تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
کرائیو ایبلیشن ایک جدید ترین طریقہ کار ہے جس میں شدید سردی کے ذریعے کینسر کے خلیات کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ان مریضوں کے لیے انتہائی مؤثر ہے جن کی سرجری کرنا ممکن نہیں ہوتا یا جن کے ٹیومر ایسے حصوں میں ہوتے ہیں جہاں روایتی آپریشن خطرے سے خالی نہیں۔
محکمہ صحت پنجاب کے حکام کے مطابق، یہ مشینیں لاہور اور ملتان کے سرکاری کینسر ہسپتالوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔ تکنیکی تنصیب کا عمل جاری ہے اور ان مشینوں کو رواں ماہ کے آخر تک فعال کر دیا جائے گا۔
ایک سینئر آنکولوجسٹ نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی سے مریضوں کی بحالی کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ جو مریض پہلے آپریشن کے بعد ہفتوں ہسپتال میں گزارتے تھے، اب وہ 24 گھنٹوں کے اندر گھر جانے کے قابل ہوں گے۔
صوبائی حکومت کے اس اقدام سے غریب مریضوں پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔ نجی ہسپتالوں میں کرائیو ایبلیشن کا ایک سیشن لاکھوں روپے میں پڑتا ہے، جبکہ سرکاری مراکز میں یہ علاج اب مفت فراہم کیا جائے گا۔
یہ طریقہ کار جگر، پھیپھڑوں اور گردے کے ان کینسرز کے لیے خاص طور پر کارآمد ہے جہاں ٹیومر ایک جگہ محدود ہوں۔ سرجری کے برعکس اس میں خون بہنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے اور انفیکشن کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
محکمہ صحت نے سرجنز کی تربیت کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ مشینوں کے ساتھ ساتھ ماہرین کی دستیابی بھی یقینی بنائی جا سکے۔ حکومتی ہدف کے مطابق، اگلے تین ماہ کے دوران 400 سے زائد مریضوں کی طویل فہرست کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا جائے گا۔
اگرچہ یہ جدید مشینیں پنجاب کے کینسر کے علاج کے شعبے میں ایک اہم اضافہ ہیں، لیکن اصل چیلنج ان مشینوں کے لیے درکار مخصوص پروبز کی مستقل فراہمی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے چھ ماہ کا اسٹاک محفوظ کر لیا ہے تاکہ علاج کا عمل بلا تعطل جاری رہے۔
