ٹانک/جنوبی وزیرستان — ضلعی انتظامیہ نے پیر کے روز جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ اس اقدام کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے، اسلحہ کی نمائش اور مشکوک نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام عارضی ہے اور اس کا مقصد علاقے میں امن و امان کی فضا کو یقینی بنانا ہے، تاہم پابندی کے خاتمے کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے بعد ٹانک کے مرکزی بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اچانک پابندی سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوا ہے بلکہ نقل و حمل میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹانک کے ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ "بازار میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور لوگ بلاوجہ گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔”
انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کو معمول کی سیکیورٹی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ حساس مقامات اور مرکزی شاہراہوں پر سیکیورٹی کے حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جہاں گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔
مقامی سیاسی حلقوں اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر اسے ضروری قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب شہری آزادیوں پر قدغن کو لے کر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ خفیہ اطلاعات کی روشنی میں یہ پیشگی اقدامات ناگزیر تھے۔ فی الحال، دونوں اضلاع میں صورتحال پرسکون لیکن کشیدہ ہے، اور سیکیورٹی فورسز گشت بڑھا کر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ پابندی کب تک برقرار رہے گی، اس کا انحصار سیکیورٹی کی آئندہ چند دنوں کی صورتحال پر ہوگا۔
