کینیڈا کے ساحل کے قریب واقع ایک چھوٹا سا چٹانی جزیرہ اچانک اپنی جگہ سے غائب ہو کر 20 میل دور نمودار ہو گیا، جس نے ماہرینِ ارضیات اور مقامی ماہی گیروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر نے اس پراسرار واقعے کو دنیا کے سامنے لایا، لیکن اس کے پیچھے کوئی معجزہ نہیں بلکہ قدرت کا ایک پیچیدہ عمل کارفرما ہے۔
برسوں تک یہ جزیرہ نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل پر اپنی جگہ قائم رہا، لیکن حال ہی میں حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر نے نقشہ نویسوں کو پریشان کر دیا۔ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، وہ جزیرہ جو برسوں سے ایک مخصوص مقام پر نشان زد تھا، اب وہاں موجود نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بالکل اسی طرح کی ساخت کا ایک ٹکڑا 20 میل دور سمندر میں نمودار ہو چکا تھا۔
ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ جزیرے کی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک "شناختی غلطی” ہے۔ اس خطے کا موسم انتہائی سخت ہے اور سردیوں میں آرکٹک سے آنے والی برف کی بڑی سلیں سمندری فرش پر موجود چٹانوں اور تلچھٹ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ برفانی تودے اکثر اتھلے پانیوں میں موجود چٹانوں کو اکھاڑ کر کسی دوسری جگہ لے جاتے ہیں، جسے سیٹلائٹ سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی نیا جزیرہ بن گیا ہو۔
ایک مقامی کوسٹل سرویئر نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سیٹلائٹ امیجری اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ سیٹلائٹ صرف ایک تصویر کھینچتا ہے، جبکہ سمندری نقشے گہرائی کی پیمائش پر مبنی ہوتے ہیں۔ جب برف کسی بڑے چٹانی ڈھیر کو گھسیٹ کر دوسری جگہ لے جاتی ہے، تو ڈیجیٹل نقشے اسے نیا جزیرہ سمجھ لیتے ہیں۔”
اس الجھن کی ایک بڑی وجہ اس علاقے میں سمندری لہروں کا غیر معمولی اتار چڑھاؤ بھی ہے۔ ہائی ٹائیڈ (اونچی لہروں) کے دوران اصل جزیرہ پانی میں ڈوب کر غائب ہو جاتا ہے، اور جب لو-ٹائیڈ (کم لہروں) کے دوران سیٹلائٹ تصویر لی جاتی ہے، تو وہ 20 میل دور موجود کسی دوسری چٹان کو وہی جزیرہ سمجھ لیتا ہے۔
کینیڈین ہائیڈروگرافک سروس کے مطابق، وہ ایسے معاملات میں سیٹلائٹ تصاویر کے بجائے سمندری جہازوں سے کیے گئے سونار سروے پر انحصار کرتے ہیں۔ سمندر کا فرش مسلسل بدل رہا ہے اور کرنٹ (سمندری دھارے) ہر موسم میں ٹنوں وزنی چٹانوں کو اپنی جگہ سے منتقل کر دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ کہیں سفر کر کے نہیں گیا، بلکہ یہ بدلتے ہوئے ساحلی جغرافیے اور ٹیکنالوجی کی محدود نظر کا نتیجہ ہے۔ جیسے جیسے نقشہ سازی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے "بھوت جزیرے” مزید سامنے آئیں گے، جب تک کہ سمندری لہریں خود اگلی تصویر میں اس حقیقت کو واضح نہ کر دیں۔
