دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز اچانک بند ہو گئے۔ آج صبح سے صارفین کو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی، گوگل کے جیمنی اور اینتھروپک کے کلاڈ تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
صارفین کو ویب سائٹس اور ایپس پر ایرر کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ یہ تعطل مقامی وقت کے مطابق صبح سویرے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گیا۔ ایک ہی وقت میں تین بڑی کمپنیوں کی سروسز کا بیک وقت بند ہونا ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
کاروباری اداروں اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہے۔ جن کمپنیوں نے اپنے دفتری کاموں، کسٹمر سپورٹ اور ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے ان اے آئی ماڈلز کو مربوط کر رکھا تھا، ان کا کام مکمل طور پر رک چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اپنی پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں اور سروسز کی بحالی کا بے صبری سے انتظار ہے۔
اوپن اے آئی اور گوگل نے اپنی اسٹیٹس رپورٹس میں تکنیکی خرابی کا اعتراف کیا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق ان کی ٹیمیں مسئلے کی نشاندہی اور بحالی پر کام کر رہی ہیں۔ اینتھروپک کے کلاڈ پلیٹ فارم پر بھی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خرابی کسی ایک کمپنی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں ہو سکتی ہیں۔ اے آئی ماڈلز کے لیے درکار سرورز اور ڈیٹا سینٹرز کا نیٹ ورک آپس میں جڑا ہوا ہے؛ اگر مرکزی انفراسٹرکچر میں کوئی تکنیکی فالٹ آئے تو پوری انڈسٹری متاثر ہونا فطری بات ہے۔
یہ صورتحال اس انحصار کو ظاہر کرتی ہے جو آج کی ڈیجیٹل دنیا اے آئی پر کر چکی ہے۔ چند گھنٹوں کی بندش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا جدید ورک فلو کتنا نازک اور ایک ہی نقطے پر منحصر ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سروسز مکمل طور پر کب بحال ہوں گی۔ انجینئرز کی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، لیکن اس واقعے نے دنیا بھر میں اے آئی کے انحصار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
