کینیڈا کے تاریخی قصبے جیسپر کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جنگل میں لگی آگ نے پیر کی شب قصبے کی حدود میں داخل ہو کر ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے بعد ہزاروں رہائشیوں اور سیاحوں نے جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔
علاقے سے نکلنے والی مرکزی شاہراہ، ہائی وے 16 پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور شدید گرمی کے باعث آگ کی رفتار توقع سے کہیں زیادہ رہی۔ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بجائے اب پوری توجہ شہریوں کے انخلا اور اہم تنصیبات کو بچانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔
پارکس کینیڈا کے ایک عہدیدار نے مختصر گفتگو میں صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہوئے کہا، "ہم اب معمول کے حفاظتی اقدامات سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ ہماری واحد ترجیح انسانی جانیں ہیں۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اسے چھوڑیں اور فوری نکل جائیں۔”
یہ آگ گزشتہ ہفتے دور افتادہ علاقوں میں شروع ہوئی تھی، لیکن ہوا کا رخ بدلنے سے شعلے تیزی سے قصبے کی جانب بڑھ گئے۔ جیسپر نیشنل پارک میں خشک سالی کے باعث درخت اور جھاڑیاں بارود کی طرح آگ پکڑ رہے ہیں، جس نے قابو پانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
شہر میں موجود پیٹرول پمپس خالی ہو چکے ہیں اور موبائل نیٹ ورک بھی شدید متاثر ہے، جس کے باعث نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہی ہے۔
اگرچہ البرٹا اور برٹش کولمبیا سے امدادی ٹیمیں پہنچ رہی ہیں، لیکن آگ کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ اسے قابو کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ فی الحال، جیسپر ایک خالی قصبے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں صرف ایمرجنسی گاڑیاں ہی شعلوں کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں۔
