برٹش کولمبیا کے اندرونی علاقوں میں بھڑکنے والی ’بالڈ رینج‘ جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں 18 ہزار رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس کا دائرہ کار دوگنا ہو چکا ہے۔
منگل کی رات شروع ہونے والی یہ آگ ریکارڈ توڑ گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث قابو سے باہر ہے۔ ایمرجنسی عملہ آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے، لیکن دشوار گزار راستے اور بدلتی ہوئی ہوائیں ان کی حکمت عملی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
بی سی وائلڈ فائر سروس کی ترجمان سارہ جینکنز نے جمعرات کی صبح بریفنگ کے دوران کہا کہ "ہم موسم کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ علاقہ انتہائی ناہموار ہے، گرمی ناقابل برداشت ہے اور آگ کا یہ رویہ ایسا ہے جسے ہم نے اس سیکٹر میں برسوں میں نہیں دیکھا۔”
بالڈ رینج کے نواحی علاقوں میں فضا زہریلے دھوئیں سے بھر چکی ہے اور آسمان کا رنگ گہرا نارنجی ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے مکینوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں گھر خالی کرنے کا حکم دیا، جس کے باعث شہر سے باہر جانے والی مرکزی شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
مقامی ہسپتالوں نے ہنگامی بنیادوں پر مریضوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ قریبی شہروں میں قائم پناہ گاہوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ صوبائی حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کینیڈین مسلح افواج سے فضائی مدد طلب کر لی ہے تاکہ آگ کے بڑے حصوں پر کیمیکلز کا چھڑکاؤ کیا جا سکے۔
یہ آگ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ خطے کی معیشت کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے۔ اہم سپلائی روٹس بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں، جس سے سیاحت اور لوکل مارکیٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔
فی الحال 18 ہزار بے گھر افراد عارضی کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ حکام کی جانب سے واپسی کے بارے میں کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی، کیونکہ ابھی تک آگ کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ سورج غروب ہوتے ہی پہاڑی سلسلوں سے اٹھنے والے آگ کے شعلے دور دور تک دیکھے جا سکتے ہیں، جو اس بحران کے طویل ہونے کی علامت ہیں۔
