ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کو کنٹرول کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کو ایک "بیمار سازش” قرار دیتے ہوئے واشنگٹن میں اس ٹیکنالوجی پر قدغنیں لگانے کی مہم کو مسترد کر دیا ہے۔ سابق امریکی صدر کے اس بیان نے اے آئی کی ریگولیشن سے متعلق جاری بحث میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔
ایک حالیہ پوڈ کاسٹ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اے آئی کی حفاظت کے نام پر لگائی جانے والی رکاوٹیں دراصل جدت کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ریگولیشن عوامی تحفظ کے لیے نہیں بلکہ مخصوص مفاد پرست گروہوں کی جانب سے اس نئے معاشی میدان پر قبضہ جمانے کا منصوبہ ہے۔
ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا، "یہ ایک بیمار سازش ہے۔ وہ اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی صرف ان کے اپنے لوگوں کے پاس رہے۔”
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی، گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں لابنگ کے پیچیدہ عمل سے گزر رہی ہیں۔ اگرچہ صنعت کے کچھ بڑے ناموں نے عوامی سطح پر حکومت سے نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے، لیکن ناقدین اسے ‘ریگولیٹری کیپچر’ کا نام دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بڑی کمپنیاں قوانین کا سہارا لے کر مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ چھوٹے اسٹارٹ اپس ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔
ٹرمپ کا یہ موقف ریپبلکن پارٹی کے اس دھڑے سے میل کھاتا ہے جو اے آئی سیفٹی کی تحریک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان حلقوں کا اصل خوف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وفاقی ادارے یا سلیکون ویلی کے چند بااثر لوگ "تحفظ” کے بہانے سیاسی گفتگو پر سنسر شپ لگائیں گے یا انتخابی ڈیٹا میں ہیرا پھیری کریں گے۔
دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کا مقصد اے آئی کی سیکیورٹی، پرائیویسی اور شہری حقوق کے معیارات طے کرنا تھا۔ اس حکم نامے کے تحت کمپنیوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ نئے ماڈلز عوام کے لیے جاری کرنے سے پہلے اپنے حفاظتی ٹیسٹ کے نتائج حکومت کو فراہم کریں۔
ٹرمپ کی جانب سے اس فریم ورک کی مخالفت 2024 کی انتخابی مہم میں ایک بڑے پالیسی بدلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہیں تو موجودہ ریگولیٹری مہم کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ واضح کرتا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو عالمی سطح پر، خاص طور پر چین کے مقابلے میں، امریکی برتری پر حملہ تصور کریں گے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ڈویلپرز کے لیے یہ سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اب کمپنیوں کو واشنگٹن کے دباؤ اور مستقبل کی ممکنہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ کیسے بنایا جائے، بلکہ اصل بحث اس پر چھڑ گئی ہے کہ "تحفظ” کی تعریف طے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔
