برونکس، نیویارک — جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک سوٹ کیس سے بازیاب کرائے گئے نایاب کچھوے اب برونکس چڑیا گھر میں نئی زندگی کی طرف گامزن ہیں۔
یہ کچھوے — جن میں خطرے سے دوچار ‘بلیک بریسٹڈ لیف’ نسل بھی شامل ہے — ایک بین الاقوامی مسافر کے سامان سے پکڑے گئے تھے۔ شدید دباؤ اور غیر فطری ماحول میں سفر کے باعث یہ کچھوے چڑیا گھر پہنچنے پر پانی کی شدید کمی اور جسمانی نڈھالی کا شکار تھے۔
چڑیا گھر کے ایک ویٹرنری ڈاکٹر نے بتایا کہ "ان کی حالت بہت تشویشناک تھی۔ سوٹ کیس کے اندرونی حالات کچھووں کے لیے نہیں ہوتے۔ انہیں دوبارہ نارمل حالت میں لانے کے لیے طویل وقت، خاموشی اور نمی کے انتہائی مخصوص درجے کی ضرورت تھی۔”
یہ واقعہ وائلڈ لائف سمگلنگ کے اس وسیع نیٹ ورک کی ایک جھلک ہے جو دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا کاروبار کر رہا ہے۔ جے ایف کے ایئرپورٹ اکثر غیر ملکی پالتو جانوروں کی غیر قانونی تجارت کا مرکز بنتا ہے۔ بدقسمتی سے، ایسے زیادہ تر جانور دم گھٹنے یا درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔
یہ بچ جانے والے کچھوے اب چڑیا گھر کے ماہرین کی 24 گھنٹے زیر نگرانی ہیں۔ عملہ ان کے وزن اور خول کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور انہیں ایسی خوراک دی جا رہی ہے جو ان کے قدرتی مسکن سے ملتی جلتی ہو۔ ان کی بحالی کا مقصد صرف زندہ رکھنا نہیں، بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ مستقبل میں افزائش نسل کے پروگراموں کا حصہ بن سکیں۔
فی الحال یہ کچھوے عوامی نمائش کے لیے موجود نہیں ہیں۔ انہیں چڑیا گھر کے ‘قرنطینہ’ سیکشن میں رکھا گیا ہے جہاں شور و غل سے دور انہیں سکون فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکام نے سمگلر کی شناخت یا اس کھیپ کی حتمی منزل کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی، کیونکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ فیڈرل حکام سمگلنگ کے اس نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ یہ بے زبان کچھوے وہ سکون پا رہے ہیں جس سے وہ ہفتوں تک محروم رہے۔
