سورج گرہن محض ایک فلکیاتی نظارہ نہیں، بلکہ یہ جنگلی حیات کے لیے ایک ایسا "حیاتیاتی بحران” ہے جو ان کے قدرتی معمولات کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ جیسے ہی دن کے وقت اندھیرا چھاتا ہے، جانوروں کا اندرونی نظام — جسے سرکیڈین ردم کہا جاتا ہے — الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
دن کے اجالے میں متحرک رہنے والے پرندے اور جانور اس اچانک تاریکی کو رات کا آغاز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جنگلات میں پرندوں کا چہچہانا یکدم بند ہو جاتا ہے اور وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب، رات کو نکلنے والے کیڑے مکوڑے، جیسے جھینگر، اپنے معمول کے مطابق آوازیں نکالنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ ابھی دن کا وقت ہوتا ہے۔
تحقیقی مشاہدات بتاتے ہیں کہ یہ ردعمل صرف روشنی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ درجہ حرارت میں اچانک گراوٹ بھی جانوروں کے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ 2017 کے مکمل سورج گرہن کے دوران کیے گئے مطالعے سے پتا چلا کہ چڑیا گھروں میں بند جانوروں نے غیر متوقع رویہ دکھایا۔ گوریلے جو دن بھر اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، گرہن کے دوران سونے کے مقامات کی طرف بڑھنے لگے، جبکہ کچھ جانوروں میں بے چینی اور اضطراب کی علامات دیکھی گئیں۔
پالتو جانوروں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کتے اور بلیاں، جو اپنے مالکان کے معمولات سے جڑے ہوتے ہیں، اچانک اندھیرے میں سہم جاتے ہیں یا چھپنے کی جگہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ماہرینِ حیوانیات کا کہنا ہے کہ جانوروں کے پاس یہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ آسمان پر کیا ہو رہا ہے؛ ان کا ہر عمل صرف روشنی کے اشاروں پر منحصر ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گرہن ختم ہونے کے بعد جب دوبارہ روشنی پھیلتی ہے، تو جانوروں کا نظام فوری طور پر بحال نہیں ہوتا۔ بہت سے پرندے اور جانور کچھ دیر تک سست رہتے ہیں یا غیر معمولی انداز میں ادھر ادھر گھومتے ہیں، گویا وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ دن کا یہ مختصر وقفہ کہاں سے آیا تھا۔
قدرت کے اس کھیل میں، جانوروں کا رویہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ زمین پر زندگی کی ہر حرکت کس قدر گہرائی سے سورج کی روشنی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب سورج عارضی طور پر اوجھل ہوتا ہے، تو فطرت کا پورا توازن اپنی بقا کے لیے فوری ردعمل دیتا ہے، اور اس عمل میں عقل نہیں، صرف جبلت کام کرتی ہے۔
