کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں منگل کی شام اس وقت کہرام مچ گیا جب 16 سالہ محمد زین نالے میں گرنے والے 4 سالہ بچے کو بچاتے ہوئے خود لہروں کی نذر ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، بچہ سڑک کنارے بنے کھلے نالے کے پاس کھیل رہا تھا کہ اچانک پھسل کر پانی میں جا گرا۔ زین نے اسے ڈوبتا دیکھا تو لمحہ ضائع کیے بغیر چھلانگ لگا دی۔ اس نے بچے کو دھکا دے کر کنارے تک پہنچا دیا، جہاں موجود افراد نے اسے کھینچ کر محفوظ مقام پر منتقل کر لیا۔
بچے کو بچانے کی کوشش میں زین تیز بہاؤ کی زد میں آ گیا۔ بارش کے بعد نالے میں پانی کا دباؤ زیادہ تھا، جس نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
ریسکیو ٹیموں کو اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ نالے کا جال پیچیدہ ہونے کے باعث تلاش میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد غوطہ خوروں نے زین کی لاش جائے وقوعہ سے تقریباً دو کلومیٹر دور سے برآمد کی۔
اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ نالہ کئی ماہ سے کھلا پڑا تھا، جس کی شکایت متعدد بار ضلعی انتظامیہ سے کی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ "ہم نے بارہا کہا کہ یہ کھلا نالہ موت کا کنواں بن چکا ہے، لیکن حکام نے کبھی کان نہیں دھرے۔ آج زین نے اس لاپرواہی کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی ہے۔”
بچے کو ابتدائی طبی امداد کے لیے کلینک منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ کراچی کے خستہ حال انفراسٹرکچر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں حکام دعوے تو کرتے ہیں، مگر کھلے نالے بدستور شہر کے مختلف حصوں میں موت بانٹ رہے ہیں۔ زین کی نمازِ جنازہ بدھ کی صبح ادا کی جائے گی، جبکہ اس کے اہل خانہ اور پورا علاقہ اس المناک واقعے کے بعد صدمے کی کیفیت میں ہے۔
