الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے محمود خان اچکزئی کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی جانب سے ‘الیکشن ایکٹ 2017’ کے تحت لازمی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔
کمیشن کے اس حکم نامے کے بعد پارٹی آئندہ انتخابی عمل میں حصہ لینے اور انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں رہی۔ یہ فیصلہ محمود خان اچکزئی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو اس وقت سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ اپوزیشن اتحاد کے مرکزی رہنما کے طور پر متحرک ہیں۔ ریاستی ریکارڈ میں ان کی پارٹی سربراہی ختم ہونے سے پارلیمانی سیاست میں ان کی پوزیشن کمزور پڑ گئی ہے۔
پاکستانی قوانین کے مطابق، تمام سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی رجسٹریشن برقرار رکھنے اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے باقاعدگی سے اندرونی انتخابات کرانا لازم ہے۔ پی کے میپ کی جانب سے بارہا مہلت کے باوجود ان تقاضوں کو پورا نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں ہے۔ ای سی پی کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی اب اپنے نام یا پرچم تلے امیدوار میدان میں نہیں اتار سکتی۔ اس صورتحال نے پی کے میپ کی قیادت کو ایک بحران میں ڈال دیا ہے؛ اب یا تو انہیں فوری طور پر کمیشن کی نگرانی میں انتخابات کرانے ہوں گے یا پھر مکمل سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
محمود خان اچکزئی اور ان کی پارٹی کا موقف رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے تقاضے ان کی جماعتی روایات سے متصادم اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ آئینی تقاضوں کی پاسداری ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے اور اس میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں۔
اب گیند اچکزئی کے کورٹ میں ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ریاستی ضوابط کے مطابق اپنے اندرونی نظام کو ڈھالیں گے یا پھر قانونی پیچیدگیوں کے باعث اپنی پارٹی کا سیاسی اثر و رسوخ ختم ہوتا دیکھیں گے۔
