امریکی محکمہ خارجہ کو منگل کے روز اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب عالمی ایڈز کانفرنس کے دوران تقسیم کیے گئے نقشوں میں افریقی ممالک کے نام اور حدود غلط درج تھیں۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران شرکاء نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی، جس نے صحت عامہ کے اس اہم فورم کو سفارتی لاپرواہی کے ایک بڑے تنازع میں بدل دیا۔
یہ غلطی ان معلوماتی کتابچوں میں پائی گئی جو وفود میں تقسیم کیے گئے تھے۔ متعدد ممالک کے نام غلط لکھے گئے تھے یا ان کی جغرافیائی حدود کو درست ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ متاثرہ خطوں کے نمائندوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔ ایسے محکمے سے، جو اپنی درستگی اور بین الاقوامی رابطوں پر فخر کرتا ہے، اس طرح کی کوتاہی کو براعظم افریقہ کے لیے امریکی عدم دلچسپی کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مندوب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "یہ محض چھپائی کی غلطی نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمیں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ جانیں بچانے کے موضوع پر بات کرنے آتے ہیں اور آپ ان لوگوں کا جغرافیہ تک درست نہیں بتا سکتے جن کی آپ مدد کرنا چاہتے ہیں۔”
معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد امریکی حکام نے مواد واپس لینا شروع کر دیا۔ دوپہر تک تمام غلط کتابچے بوتھس سے ہٹا دیے گئے، تاہم اس واقعے نے کانفرنس کا ماحول خراب کر دیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک مختصر بیان میں اسے "مواد کی تیاری میں تکنیکی غلطی” قرار دیا، لیکن یہ وضاحت شرکاء کو مطمئن نہ کر سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غلطیاں امریکی صحت کے پروگراموں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں، جن کا انحصار مقامی حکومتوں اور تنظیموں کے ساتھ اعتماد پر ہوتا ہے۔
امریکی سرکاری مواصلات میں افریقی جغرافیہ سے متعلق یہ پہلی کوتاہی نہیں، لیکن اس کا وقت انتہائی نامناسب تھا۔ یہ کانفرنس، جس میں عالمی رہنما، سائنسدان اور سماجی کارکن شریک ہیں، ایچ آئی وی/ایڈز کے بحران کے لیے فنڈز اور پالیسیوں کے عزم کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
بہت سے شرکاء کے لیے یہ نقشے کا واقعہ اعلیٰ سطحی پالیسی کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان وسیع خلیج کی یاد دہانی ہے۔ کانفرنس کے جاری سیشنز میں اب توجہ صحت کے اہداف کے بجائے سفارتی نقصان کے ازالے پر مرکوز ہو چکی ہے، جس سے منتظمین کو وبائی امراض پر بات کرنے کے بجائے صفائیاں پیش کرنے میں زیادہ وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے۔
