راولپنڈی پولیس نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ شہر کی مارکیٹیں غیر معینہ مدت تک بند کی جا رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تاجروں کو پہلے ہفتے کے اختتام پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دکانیں بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن ایسی کوئی واضح سرکاری ہدایت سامنے نہیں آئی جس میں کہا گیا ہو کہ تجارتی مراکز کو غیر معینہ مدت تک بند رکھا جائے گا۔
صورتحال اس وقت مزید الجھ گئی جب کچھ بازار مختصر طور پر کھل گئے، مگر بعد میں پولیس نے دوبارہ دکانداروں کو شٹر گرانے کا کہا۔ اس اچانک بدلتی صورتِ حال نے تاجروں میں شدید بے چینی پیدا کی، جن کا کہنا تھا کہ کاروبار پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے متضاد اشارے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ابتدائی بندشیں دراصل راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد اور نقل و حرکت کے باعث سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت کی گئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق شہر میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی علاقوں اور بعض تجارتی مراکز میں غیر معمولی نگرانی اور پابندیاں نافذ کی گئیں۔
شہریوں اور تاجروں کے لیے اصل مسئلہ سفارتی سرگرمیوں سے زیادہ روزمرہ زندگی کا تھا۔ بڑے بازار بند ہونے سے نہ صرف خریداری متاثر ہوئی بلکہ دکان داروں نے یہ شکایت بھی کی کہ وقتی بندشوں نے سپلائی، فروخت اور معمول کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا۔ بعض علاقوں میں دکاندار اس امید پر دکانیں کھول بیٹھے کہ حالات معمول پر آ گئے ہیں، مگر انہیں دوبارہ بند کرنے کو کہا گیا۔
اسی لیے پولیس کی یہ وضاحت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اب تنازع صرف یہ نہیں رہا کہ بازار سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کیے گئے تھے یا نہیں، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ پابندیاں سکیورٹی حالات سے جڑی ہوئی تھیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ بندش عارضی تھی یا دکانداروں پر غیر رسمی طور پر طویل بندش مسلط کی جا رہی تھی۔ دستیاب معلومات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ غیر معینہ بندش سے زیادہ وقتی اقدامات اور کمزور رابطہ کاری کا تھا۔
