سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی میں ایک نئی اور متنازعہ سمت کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ کیوبا کے ان شہریوں کو، جنہیں امریکہ سے ملک بدر کیا جائے گا، کیوبا کے بجائے یوراگوئے بھیجا جائے۔ اس اقدام کا مقصد ہوانا حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا ہے، تاہم اس فیصلے نے مونٹی ویڈیو (یوراگوئے کے دارالحکومت) کے حکام کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور خطے میں سفارتی تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس تجویز کی بنیاد اس منطق پر رکھی گئی ہے کہ کیوبا اپنی سرزمین سے جانے والے شہریوں کو واپس لینے سے گریزاں ہے، جس سے امریکہ کے لیے ایک سفارتی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم کا خیال ہے کہ ان افراد کو تیسرے ملک—یعنی یوراگوئے—بھیج کر ہوانا پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ یہ طریقہ کار ایک داخلی امیگریشن مسئلے کو بین الاقوامی سفارتی بحران میں بدلنے کی کوشش ہے۔
یوراگوئے کے حکام—جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی—کا کہنا ہے کہ انہیں اس طرح کے کسی بھی معاہدے کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ مونٹی ویڈیو میں اس منصوبے کو شکوک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ یوراگوئے انتظامیہ واشنگٹن اور کیوبا کے درمیان جاری تنازع میں فریق بننے کے بجائے خطے میں اپنے استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔
خارجہ پالیسی کے ایک ماہر، جو اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کا کہنا ہے کہ "یہ کوئی پالیسی نہیں، بلکہ ایک اشتعال انگیز اقدام ہے۔ آپ کسی خود مختار ملک کی مرضی کے بغیر وہاں غیر ملکی شہریوں کو نہیں بھیج سکتے۔ یہ بین الاقوامی امیگریشن قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
یہ منصوبہ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کی "ریمین ان میکسیکو” (میکسیکو میں قیام) پالیسی سے ملتا جلتا ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ میکسیکو کے برعکس، یوراگوئے کی سرحد امریکہ سے نہیں ملتی اور نہ ہی وہاں امریکی ملک بدر ہونے والے افراد کو رکھنے کی کوئی تاریخی مثال موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا دباؤ یوراگوئے جیسے روایتی امریکی اتحادی کو بھی واشنگٹن سے دور کر سکتا ہے، جس سے وہ علاقائی اتحادوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے زیادہ غیر یقینی کا شکار وہ کیوبن شہری ہیں جو اس وقت امریکی حراستی مراکز میں موجود ہیں۔ ان کی قانونی حیثیت اس وقت ایک بھنور میں پھنسی ہوئی ہے؛ ایک طرف ان کا اپنا ملک انہیں قبول کرنے سے انکاری ہے، اور دوسری طرف یوراگوئے نے انہیں اپنے ہاں رکھنے کے لیے کبھی کوئی حامی نہیں بھری۔
یہ حکمت عملی کیوبا سے ہونے والی ہجرت کی اصل وجوہات—جیسے معاشی بدحالی اور سیاسی جبر—کو نظر انداز کرتی ہے۔ یہ اقدام مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے محض داخلی سیاست میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا ایک سیاسی حربہ معلوم ہوتا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کی انتخابی مہم اسے سرحد کی حفاظت کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دے رہی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یوراگوئے حکومت کے تعاون کے بغیر یہ منصوبہ محض کاغذوں تک محدود ہے، اور مونٹی ویڈیو فی الحال اس میں کسی بھی طرح کی دلچسپی لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
