اوٹاوا — وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی ٹیرف کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے یورپ کا رخ کر لیا ہے۔ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی لگانے کی دھمکی کے بعد، وفاقی حکومت نے یورپ کو توانائی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مذاکرات تیز کر دیے ہیں۔
حکمتِ عملی واضح ہے: انحصار کم کرو یا نقصان اٹھاؤ۔ کینیڈا اپنی برآمدات کا تقریباً 75 فیصد حصہ امریکہ بھیجتا ہے، جس کے باعث معیشت بری طرح امریکی پالیسیوں سے جڑی ہے۔ اب وفاقی حکومت کینیڈا کو ایک ایسے قابلِ اعتماد توانائی پارٹنر کے طور پر پیش کر رہی ہے جو روس سے گیس کی سپلائی منقطع ہونے کے بعد یورپ کی ضروریات پوری کر سکے۔
قدرتی وسائل کی وزارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو صرف ایک گاہک کے بجائے عالمی منڈی تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔”
اس پیش رفت کا مرکز مائع قدرتی گیس اور ہائیڈروجن ہے۔ کینیڈا میں ریگولیٹری رکاوٹوں اور ماحولیاتی تحفظات کے باعث بڑے برآمدی ٹرمینلز کی تعمیر طویل عرصے سے تعطل کا شکار رہی ہے، لیکن اب جغرافیائی سیاسی صورتحال بدل چکی ہے۔ وفاقی کابینہ برٹش کولمبیا اور کیوبیک میں دو بڑے منصوبوں کو ‘فاسٹ ٹریک’ کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ برلن اور برسلز کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ کینیڈین سپلائی جلد دستیاب ہوگی۔
توانائی کے شعبے کے لیے یہ ایک دیرینہ ضرورت کا حل ہے۔ صنعت کار برسوں سے یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی منڈیوں تک رسائی نہ ہونا کینیڈا کو امریکی قیمتوں اور پالیسیوں کا اسیر بناتا ہے۔ اب یہ کمزوری ایک قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔
تاہم، ناقدین اس پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ماحولیاتی گروپوں کا کہنا ہے کہ کا کاربن فٹ پرنٹ بہت زیادہ ہے، جبکہ توانائی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں برسوں لگیں گے — اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے فوری خطرے کا حل نہیں ہے۔
توانائی کی ماہر معاشیات سارہ جینکنز کہتی ہیں، "بنیادی ڈھانچہ وعدوں پر کھڑا نہیں ہوتا۔ اگر آج کام شروع بھی ہو جائے، تب بھی 2028 تک گیس کا ایک مالیکیول یورپی بندرگاہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔”
حکومت کا ماننا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے پار شراکت داری کا اشارہ ہی واشنگٹن کو اپنی جارحانہ تجارتی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دے گا۔ اگر کینیڈا یہ ثابت کر دے کہ اس کے پاس اپنے وسائل کے لیے دیگر قابلِ عمل منڈیاں موجود ہیں، تو امریکہ کا "کیپٹو مارکیٹ” والا دباؤ خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
ٹروڈو اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے، لیکن ان کی ٹیم پہلے ہی یورپ کے وسیع تر دورے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے حلف اٹھانے سے قبل ٹھوس معاہدوں پر دستخط کیے جائیں۔ آیا یہ معاہدے سیاسی اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کر پائیں گے یا نہیں، یہ کینیڈا کے معاشی مستقبل کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔
