اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ نے صرف طبی آلات کو نہیں بلکہ ہسپتال کی انتظامیہ کی ساکھ کو بھی راکھ کر دیا ہے۔ منگل کی رات پیش آنے والے اس المناک واقعے کے بعد تین خاندانوں کے چراغ گل ہو گئے اور ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
آگ لگنے کے بعد وارڈ میں افراتفری مچ گئی اور درجنوں بچوں کو ہنگامی بنیادوں پر منتقل کرنا پڑا۔ عملے نے جان بچانے کی کوشش تو کی، لیکن تین شیر خوار بچے اس بھگدڑ اور آکسیجن کی فراہمی میں تعطل کے باعث دم توڑ گئے۔
ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اب شدید دباؤ میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں، جہاں بچے لائف سپورٹ پر ہوتے ہیں، آگ بجھانے کا فوری اور خودکار نظام کیوں فعال نہیں تھا؟ ہسپتال کے ذرائع بتاتے ہیں کہ وینٹیلیشن سسٹم میں شارٹ سرکٹ کی شکایت کئی ماہ قبل کی گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے بجٹ کی کمی کا بہانہ بنا کر اسے نظر انداز کر دیا۔
ایک سینئر نرس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مشینیں پرانی ہو چکی تھیں اور بجلی کے لوڈ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ ہم نے بارہا انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ یہ کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن کسی نے کان نہیں دھرے۔”
واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ایک مختصر بیان میں "شفاف تحقیقات” کا وعدہ کیا ہے، لیکن متاثرہ والدین اس وعدے کو محض خانہ پوری قرار دے رہے ہیں۔ ایک غمزدہ والد کا کہنا تھا، "ہمیں بتایا گیا تھا کہ پمز شہر کا سب سے محفوظ ہسپتال ہے، لیکن یہاں تو ہماری اولاد کی زندگی ہی خطرے میں تھی۔”
پمز میں انتظامی غفلت کوئی نئی بات نہیں۔ طویل عرصے سے بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے یہاں ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تعطل ایک معمول بن چکا ہے۔ تاہم، اس بار معاملہ صرف بدانتظامی کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا ہے۔
وزارتِ صحت نے دو جونیئر ٹیکنیشنز کو تو معطل کر دیا ہے، مگر عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داری کا تعین اوپر سے ہونا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فی الحال NICU کا کچھ حصہ سیل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن اس واقعے نے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال اور عوام کے درمیان اعتماد کی جو دیوار گرائی ہے، اسے تعمیر کرنا اب آسان نہیں ہوگا۔ ان والدین کے لیے جن کے بچے اس آگ کی نذر ہوئے، کسی بھی انکوائری کا نتیجہ ان کی زندگیوں میں خالی پن کو کبھی ختم نہیں کر سکے گا۔
