سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے ہل پارک میں جاری کمرشل تعمیرات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور مقامی حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت کا یہ اقدام پارک کی محفوظ زمین کو کمرشل زونز میں تبدیل کرنے کے خلاف عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
برسوں سے ہل پارک شہر کے ان چند مقامات میں شامل رہا ہے جہاں شہری کنکریٹ کے جنگل میں کچھ سانس لے سکتے تھے۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ تعمیرات زمین کے اصل استعمال کے قانونی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پارک میں بھاری مشینری اور تعمیراتی ڈھانچوں کی موجودگی شہر کے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ "ہم صرف درخت نہیں کھو رہے، بلکہ یہ پارک کراچی کے شہریوں کی ملکیت ہے جسے نجی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔”
کے ایم سی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ شہر کی "خوبصورتی” بڑھانے کا حصہ ہے، تاہم سماعت کے دوران وہ کوئی ایسی دستاویز پیش نہ کر سکے جو ان تعمیرات کی قانونی حیثیت کو ثابت کر سکے۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں بینچ نے میونسپل حکام سے اگلی سماعت تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جس میں پارک کے اصل ماسٹر پلان کی وضاحت بھی شامل ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک پارک تک محدود نہیں۔ کراچی میں برسوں سے عوامی مقامات کو ترقی کے نام پر نجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک سلسلہ چل رہا ہے۔ ماہرینِ شہری منصوبہ بندی بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اسی طرح کی بے ہنگم تعمیرات کے باعث شہر کا نکاسی آب اور ہوا کا قدرتی گزرگاہ کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔
عدالت کی جانب سے اگلی سماعت تک تعمیراتی کام روکنے کا حکم ایک عارضی ریلیف تو ہے، لیکن عدالت کے باہر موجود سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ قانونی جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پارک کی زمین کے تمام الاٹمنٹس کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔
کے ایم سی کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت پارک کی زوننگ ہسٹری کا جائزہ لینے کے بعد کس حد تک ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دیتی ہے، یا پھر شہر کی منصوبہ بندی پر حاوی کمرشل مفادات غالب رہتے ہیں۔
