سرخی: انڈونیشیا: جنگل کی آگ کے باعث ماؤنٹ برومو سیاحوں کے لیے بند
انڈونیشیا کے مشہور آتش فشاں پہاڑ ‘ماؤنٹ برومو’ کے ارد گرد پھیلے جنگلات میں شدید آگ لگنے کے بعد حکام نے سیاحوں کا داخلہ فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ مشرقی جاوا میں واقع یہ نیشنل پارک اپنی منفرد خوبصورتی کے باعث دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا مرکز ہے، مگر اب یہاں ہر طرف دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
نیشنل پارک انتظامیہ نے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیے میں کہا کہ آگ تیزی سے پھیل رہی ہے اور تیز ہواؤں کے باعث اسے بجھانا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ حکام کے مطابق، سیاحوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اسی لیے ‘سی آف سینڈ’ (Sea of Sand) اور پہاڑ کے اطراف کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
آگ لگنے کی وجوہات فی الحال واضح نہیں ہیں، تاہم حکام نے انسانی غفلت کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی اسی علاقے میں ایک پری ویڈنگ فوٹوشوٹ کے دوران جلائی گئی مشعل سے خوفناک آگ لگی تھی، جس نے بڑے پیمانے پر نباتات کو تباہ کر دیا تھا۔ موجودہ خشک موسم اور شدید گرمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مقامی معیشت کا بڑا انحصار سیاحت پر ہے۔ جیپ ڈرائیورز، گھڑ سوار اور مقامی ہوم سٹیز چلانے والے افراد اس بندش سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ایک مقامی گائیڈ نے بتایا کہ "ہم اپنے گھروں سے پہاڑ پر اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل دیکھ رہے ہیں۔ سب کچھ رک گیا ہے، اور ہم صرف بارش کا انتظار کر رہے ہیں۔”
ریسکیو ٹیمیں اور فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن دشوار گزار راستے اور تیز ہوائیں ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انتظامیہ نے تاحال پہاڑ کو دوبارہ کھولنے کی کوئی تاریخ نہیں دی ہے۔
جب تک آگ مکمل طور پر بجھ نہیں جاتی اور فضا میں دھوئیں کا تناسب انسانی صحت کے لیے محفوظ نہیں ہو جاتا، یہ سیاحتی مقام ویران رہے گا۔ ماؤنٹ برومو، جو کبھی سیاحوں کی چہل پہل سے گونجتا تھا، اب ایک خاموش اور پرخطر علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
