ساوو، کینیا — کینیا کے ساوو کنزرویشن ایریا میں 14 ہاتھیوں کی ہلاکت کے بعد وائلڈ لائف حکام نے ہنگامی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پارک کے مختلف حصوں میں ہاتھیوں کی لاشیں ملنے کے بعد حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ شکار یا کسی ماحولیاتی بحران کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
کینیا وائلڈ لائف سروس نے منگل کے روز ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ماہر ویٹرنری ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور موت کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے لاشوں کا معائنہ (پوسٹ مارٹم) کیا جا رہا ہے۔ حکام نے تاحال کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا، جن میں غیر قانونی شکار سے لے کر خشک سالی یا پانی کے ذرائع میں زہریلے مادوں کی موجودگی شامل ہے۔
کے ڈبلیو ایس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ان ہلاکتوں کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اتنے کم وقت میں 14 ہاتھیوں کا مرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ کوئی مجرمانہ فعل ہے یا ماحولیاتی بحران۔”
کینیا کا سب سے بڑا نیشنل پارک، ساوو، طویل عرصے سے ہاتھیوں کے شکار کے خلاف جنگ کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سکیورٹی اقدامات کو سخت کیا گیا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں پارک کی نگرانی کے نظام میں سقم یا وسائل کے انتظام میں ناکامی کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
خطے میں کام کرنے والے ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مشرقی افریقہ میں موسمیاتی تبدیلیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ طویل خشک سالی کے باعث ہاتھیوں کے جھنڈ محدود آبی ذخائر کی جانب رخ کرتے ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ یا مقامی آبادی کے ساتھ تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرِ حیات ڈاکٹر سیموئل نجوروگے کا کہنا ہے کہ "اگر یہ کوئی بیماری ہے تو اسے دوسرے جھنڈوں تک پہنچنے سے روکنا ایک بڑی چیلنج ہے۔ اگر معاملہ زہر خورانی کا ہے تو ہمیں باقی ہاتھیوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر زہریلے مادے کا سراغ لگانا ہوگا۔”
یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب کینیا کے تحفظِ جنگلی حیات کے ادارے نے 2010 کی دہائی کے اوائل میں شکار کے واقعات کے بعد ہاتھیوں کی تعداد کو بڑی مشکل سے بحال کیا تھا۔ فی الحال پارک میں گشت بڑھا دی گئی ہے اور حکومت لیبارٹری رپورٹس کا انتظار کر رہی ہے۔
کے ڈبلیو ایس کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ تب تک، ساوو کے میدانوں میں چھائی ہوئی خاموشی جنگلی حیات اور بدلتے ہوئے ماحول کے درمیان قائم نازک توازن پر ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
