بونیر / مظفرآباد / گلگت – شدید مون سون بارشوں نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 78 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارے دو دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 60 افراد جاں بحق ہوئے، سب سے زیادہ 21 ہلاکتیں باجوڑ میں ہوئیں۔ لوئر دیر، بٹگرام، سوات اور شانگلہ میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
بونیر کے ڈپٹی کمشنر نے دعویٰ کیا کہ ضلع میں کم از کم 75 افراد جاں بحق ہوئے اور 56 لاشیں اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔
گلگت بلتستان میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ کئی لاپتہ ہیں۔ غذر، دیامر اور استور وادی میں مکانات تباہ ہوئے اور قراقرم ہائی وے سمیت کئی شاہراہیں بلاک ہو گئیں۔
آزاد کشمیر میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں مظفرآباد کے نصیر آباد میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شامل ہیں۔ باغ، وادی جہلم، سماہنی، ہٹیاں بالا اور نیلم ویلی میں درجنوں مکانات تباہ ہوئے جبکہ موبائل سروس بھی متاثر ہوئی۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انور الحق نے ایمرجنسی اجلاس طلب کر کے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد اور دریائی کناروں پر بسنے والے افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا حکم دیا۔ نیلم ویلی کے رتی گلی میں 700 سے زائد سیاح سڑک کا کچھ حصہ بہہ جانے کے بعد پھنسے ہوئے ہیں۔
اس سال کے مون سون میں اب تک ملک بھر میں 300 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2022 میں ایسے ہی سیلابوں میں 1,700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
