کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں تین افراد کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ایک خصوصی 8 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ایس پی کی سربراہی میں قائم اس ٹیم میں ڈسٹرکٹ ویسٹ کے تجربہ کار تفتیشی افسران اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہیں۔ ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف قاتلوں کی شناخت کرے بلکہ واقعے کے محرکات کا بھی تعین کرے۔
سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر ایل-ون میں پیش آنے والے اس واقعے میں مقتولین کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اسے ڈکیتی مزاحمت کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کی، تاہم مقتولین کے لواحقین اور شواہد کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس مہارت سے یہ واردات کی گئی، اس کے پیچھے کسی منظم گروہ کا ہاتھ ہونے کا قوی امکان ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سرجانی ٹاؤن کے مضافاتی علاقوں میں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، لیکن جس طرح دن دہاڑے تین جانیں لی گئیں، اس سے لگتا ہے کہ مجرموں کو قانون کا کوئی خوف نہیں رہا۔”
تحقیقاتی ٹیم اس وقت جائے وقوعہ کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر رہی ہے اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ جلد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے، تاہم اب تک کسی بھی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔
ایک سینئر تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ "ہم ذاتی دشمنی، ڈکیتی اور دیگر تمام پہلوؤں پر کام کر رہے ہیں۔”
کمیٹی کا قیام ایک رسمی انتظامی کارروائی تو ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کو محض تحقیقاتی ٹیموں کے اعلانات سے کوئی غرض نہیں۔ ان کے لیے اصل انصاف تب ہوگا جب قاتل سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیم واقعی مجرموں تک پہنچ پائے گی یا یہ فائل بھی دیگر پرانے کیسز کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائے گی؟
