جوہانسبرگ — جنوبی افریقہ کے او آر ٹیمبو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حکام نے ایک تھائی شہری کو اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے گرفتار کیا، جس کے سامان سے برآمد ہونے والے طوطوں کے انڈوں سے اب بچے نکل آئے ہیں۔
گرفتار شخص بنکاک جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی تیاری کر رہا تھا کہ کسٹم حکام نے مشکوک سامان کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ کے ایک خفیہ خانے سے 18 انڈے برآمد ہوئے، جنہیں نہایت مہارت سے چھپایا گیا تھا۔
ان انڈوں کو فوری طور پر ایک ماہر انکیوبیشن سینٹر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کو شروع میں ان کے زندہ بچنے کی امید بہت کم تھی کیونکہ سفر کے دوران طویل وقت تک غیر محفوظ حالات میں رہنے سے انڈوں کی ساخت اور اندرونی حالت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
ریسکیو سینٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "اسمگلنگ کے دوران انڈوں کے زندہ رہنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ہمیں صرف سفر کے صدمے سے نہیں، بلکہ وقت کے خلاف بھی لڑنا پڑ رہا تھا۔”
تمام تر خدشات کے باوجود، گزشتہ ہفتے انڈوں سے چوزوں کے نکلنے کا عمل شروع ہوا۔ حکام کے مطابق اب تک 18 میں سے 12 انڈوں سے بچے نکل چکے ہیں، جنہیں ماہرین کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ابتدائی طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نایاب نسل کے طوطے ہیں جن کی بین الاقوامی منڈی میں بھاری قیمت ادا کی جاتی ہے۔
جنوبی افریقہ کا یہ ایئرپورٹ طویل عرصے سے جنگلی حیات کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے نشانے پر ہے۔ یہ گروہ افریقہ کے نایاب پرندوں اور جانوروں کو یہاں سے جنوب مشرقی ایشیا کی منافع بخش منڈیوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ملزم فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔ اس پر ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی اور نایاب پرندوں کی غیر قانونی نقل و حمل کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ان چوزوں کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم اب ان کی نشوونما پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ بچے فی الحال محفوظ ماحول میں تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں، لیکن انہیں مکمل طور پر آزاد کرنے یا کسی طویل مدتی پناہ گاہ میں منتقل کرنے سے پہلے ایک طویل بحالی عمل سے گزرنا ہوگا۔
یہ واقعہ جہاں ایک طرف تحفظِ جنگلی حیات کے کارکنوں کے لیے ایک چھوٹی سی کامیابی ہے، وہیں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کی آڑ میں کس طرح افریقہ کے قدرتی اثاثوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
