نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (نیب) نے کراچی کے علاقے لیاری میں کارروائی کرتے ہوئے لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پراجیکٹ سے منسلک کئی گھروں اور کمرشل پلازوں کو سیل کر دیا ہے۔
یہ کارروائی اس طویل تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے جس میں ہائی وے کی تعمیر کے دوران بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے مختص فنڈز میں خوردبرد کا الزام ہے۔ نیب حکام کے مطابق یہ جائیدادیں قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ضبط کی گئی ہیں، کیونکہ شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ اثاثے منصوبے کے لیے جاری کردہ معاوضوں کی رقم سے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے۔
لیاری کے رہائشیوں کے لیے یہ اقدام برسوں پر محیط ایک تکلیف دہ کہانی کا اختتام ہو سکتا ہے۔ متاثرین کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ مقامی دلالوں اور سرکاری ٹھیکیداروں نے ان کا حق مارا، جس کے نتیجے میں اصل حقدار آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ٹھیکیداروں نے سرکاری فنڈز سے اپنی تجوریاں بھریں۔
ایک مقامی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک دہائی سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ عمارتیں ان لوگوں کے پیسوں سے کھڑی کی گئی تھیں جن کے گھر چھین لیے گئے۔ ان کا سیل ہونا اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ اب شاید کوئی انصاف کی بات سن رہا ہے۔”
نیب کی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ان اثاثوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا، جن میں وہ مہنگے کمرشل پلازے بھی شامل ہیں جو اس منصوبے میں کرپشن کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ بیورو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان افسران کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جنہوں نے 2018 سے 2022 کے درمیان ری سیٹلمنٹ فنڈز کا انتظام سنبھال رکھا تھا۔
تحقیقات کا دائرہ صرف عمارتوں تک محدود نہیں ہے۔ نیب حکام سابق پراجیکٹ ڈائریکٹرز کے بینک سٹیٹمنٹس اور زمینوں کے ریکارڈ کا موازنہ کر رہے ہیں تاکہ فنڈز کی منتقلی کا سراغ لگایا جا سکے۔ بیورو کے مطابق، مالیاتی ریکارڈ کا آڈٹ مکمل ہونے کے قریب ہے جس کے بعد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
اس کارروائی کے باوجود، ناقدین اب بھی شکوک کا شکار ہیں کہ کیا ضبط کی گئی جائیدادوں سے متاثرہ خاندانوں کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچ سکے گا۔ نیب نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ سیل کی گئی عمارتوں کا مستقبل کیا ہوگا، جس سے خدشہ ہے کہ یہ جائیدادیں برسوں تک قانونی پیچیدگیوں میں پھنسی رہ سکتی ہیں۔
فی الحال ان پلازوں کے دروازوں پر لگی نیب کی پیلی پٹی اب بیورو کی ساکھ کا امتحان ہے۔ تحقیقات کا اگلا مرحلہ—خوردبرد شدہ فنڈز کے اصل مستفید ہونے والوں تک پہنچنا—یہ طے کرے گا کہ آیا یہ کیس انصاف کی فراہمی تک پہنچتا ہے یا محض ایک اور طویل قانونی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
