فرانس اور اسپین میں شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کے پیشِ نظر ہنگامی خدمات کے ادارے الرٹ ہو گئے ہیں۔ درجہ حرارت کے 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کی پیش گوئی نے پہلے سے تباہ حال جنگلات کی آگ کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے حکام کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن تاریخ کا بدترین ثابت ہوگا۔
فرانس کا علاقہ ’جیرونڈ‘ اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں چیڑ کے جنگلات کا وسیع رقبہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ تیز اور خشک ہوائیں آگ کو پھیلنے میں مدد دے رہی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران 30 ہزار سے زائد مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جس نے مقامی انتظامیہ کے وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اسپین کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ملک بھر میں آگ کے 30 سے زائد مقامات فعال ہیں، جن میں ‘زامورا’ (Zamora) صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک فائر فائٹر اور ایک مویشی پال کسان کی ہلاکت نے ان حالات کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
میڈرڈ میں سول پروٹیکشن کے ایک عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ، "ہمارا ماحول اس وقت بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ ہم صرف آگ سے نہیں لڑ رہے، بلکہ ہم براہِ راست بدلتے ہوئے موسم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔”
دونوں ممالک کے محکمہ موسمیات نے ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک طاقتور ہائی پریشر سسٹم، جسے ‘ہیٹ ڈوم’ کہا جاتا ہے، جزیرہ نما آئبیریا پر جم چکا ہے اور اب شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ موسمیاتی کیفیت رات کے وقت بھی درجہ حرارت کو کم نہیں ہونے دے رہی، جس کے باعث تھکے ہارے فائر فائٹرز کو آرام کا موقع بھی نہیں مل رہا۔
آگ سے ہونے والے معاشی نقصانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ فرانس کے سیاحتی قصبوں میں بکنگ منسوخ ہو رہی ہیں، جبکہ اسپین میں زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق نقصان کروڑوں یورو تک پہنچ چکا ہے، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
پیرس اور میڈرڈ کی حکومتیں اب یورپی یونین سے ہنگامی مدد کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ آگ بجھانے والے مزید طیارے حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، یہ کمک وقتی حل تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن موسم کی خشک سالی کا مستقل حل اب بھی ایک چیلنج ہے۔
بدھ کے روز جب درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، زمینی عملے کی توجہ آگ پر قابو پانے کے بجائے اب انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ ہیٹ ویو میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اور سوال یہ نہیں کہ مزید کتنا رقبہ خاکستر ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ اس تباہی کو کہاں روکا جا سکے گا۔
