محکمہ موسمیات نے 2026 کے مون سون سیزن کے دوران ملک کے بڑے شہری مراکز میں شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ تازہ ترین موسمیاتی ماڈلز کے مطابق، اس سال بارشوں کا پیٹرن غیر معمولی رہے گا، جس سے پہلے سے خستہ حال نکاسی آب کے نظام والے شہروں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق اس بار مون سون ہوائیں گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتی ہیں۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کو سب سے زیادہ خطرے کی زد میں قرار دیا گیا ہے۔ ان شہروں میں برساتی نالوں کی بندش اور نکاسی کے ناقص انتظام کے باعث ہر سال سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ایک سینئر ماہر موسمیات نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف موسمی اوسط کی بات نہیں کر رہے۔ اصل تشویش بارش کے ارتکاز کی ہے۔ ہم کم وقت میں شدید بارش کے ایسے سلسلے دیکھ رہے ہیں جن کے لیے شہروں کا موجودہ نکاسی نظام ڈیزائن نہیں کیا گیا۔”
نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کے لیے یہ انتباہ ایک پرانی پریشانی کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ہونے والی شدید بارشوں نے مرکزی شاہراہوں کو کئی دن تک زیر آب رکھا، جس سے ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔ میونسپل حکام نے نالوں کی صفائی شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ناقدین اسے ایک روایتی اور وقتی ردعمل قرار دے رہے ہیں۔
شہری سیلاب کے باعث معاشی نقصانات کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ املاک اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ، سپلائی چین میں تعطل اور مقامی کاروبار کی بندش کا اثر براہِ راست عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔
شہروں کے منصوبہ سازوں پر اب دباؤ ہے کہ وہ وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر مستقل حل تلاش کریں۔ محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، لیکن اصل امتحان میونسپل کارپوریشنز کا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ بارشوں کے پہلے قطرے گرنے سے پہلے نالوں کو کچرے اور پلاسٹک سے پاک کر پائے گی یا نہیں۔
