دنیا بھر کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی پہلی ویکسین متعارف کرا دی ہے، جسے طب اور صحت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ویکسین کی تیاری میں جدید AI الگورتھمز استعمال کیے گئے، جنہوں نے بڑی مقدار میں حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ایسے اجزا کی نشاندہی کی جو انسانی مدافعتی نظام میں مؤثر ردِعمل پیدا کر سکتے ہیں۔
روایتی طریقوں کے مقابلے میں AI کی مدد سے ویکسین کی تیاری کا عمل کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ثابت ہوا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نئی اور ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کے خلاف ویکسینز کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور مستقبل میں وباؤں کے دوران فوری ردِعمل ممکن بنا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق AI سے ڈیزائن کی گئی ویکسین نہ صرف تحقیق اور ترقی کے اخراجات کم کر سکتی ہے بلکہ کامیاب ویکسین تیار کرنے کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ اس ویکسین کی حفاظت اور مؤثریت کی مکمل تصدیق کے لیے مزید کلینیکل آزمائشیں درکار ہیں، تاہم اسے بایوٹیکنالوجی اور عالمی صحت کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت نئی ویکسینز، ادویات اور ذاتی نوعیت کے علاج تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
