سمندری سائنسدانوں نے گہرے سمندر میں تحقیق کے دوران نایاب "ڈیول فش” کو دیکھنے کی اطلاع دی ہے، جسے سمندری تحقیق کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشاہدے سے گہرے سمندر میں رہنے والی پراسرار مخلوقات کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
محققین کے مطابق اس مخلوق کو سمندر کی سطح سے سینکڑوں میٹر نیچے ایک ریموٹلی آپریٹڈ انڈر واٹر وہیکل کی مدد سے دیکھا گیا۔ چونکہ یہ جاندار انتہائی گہرے، تاریک اور شدید دباؤ والے سمندری ماحول میں رہتا ہے، اس لیے اسے قدرتی ماحول میں دیکھنے کے مواقع نہایت کم ملتے ہیں۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ اس نایاب مشاہدے کے دوران مخلوق کی جسمانی ساخت، تیرنے کے انداز اور اپنے قدرتی ماحول میں اس کے رویّے کا بغور جائزہ لیا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے حاصل کی گئی اعلیٰ معیار کی ویڈیوز اور تصاویر گہرے سمندر کی حیاتیاتی تنوع کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔
ماہرین کے مطابق ڈیول فش اپنی منفرد جسمانی ساخت، گہرے رنگ، غیر معمولی شکل اور سخت سمندری حالات میں زندہ رہنے کی حیرت انگیز صلاحیت کے باعث معروف ہے۔ یہ مخلوق انتہائی کم درجہ حرارت، شدید پانی کے دباؤ اور مکمل تاریکی جیسے مشکل حالات میں زندگی گزارنے کے لیے خاص جسمانی خصوصیات رکھتی ہے۔
سمندری حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ گہرے سمندر میں زندگی کس طرح انتہائی سخت ماحول سے مطابقت اختیار کرتی ہے۔ اس تحقیق سے نئی انواع کی شناخت اور سمندری جانداروں کے ارتقا کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے سمندروں کا ایک بڑا حصہ اب بھی دریافت نہیں ہو سکا، جہاں بے شمار نامعلوم جاندار موجود ہو سکتے ہیں۔ جدید زیرِ آب ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ بھی ایسی تحقیق جاری رکھنے کا منصوبہ ہے تاکہ سمندر کی پوشیدہ دنیا کے مزید راز سامنے آ سکیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، سمندری آلودگی، پلاسٹک کا فضلہ اور گہرے سمندر میں کان کنی جیسی سرگرمیاں ان نازک ماحولیاتی نظاموں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان مساکن کا تحفظ عالمی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈیول فش کی یہ نایاب جھلک نہ صرف سائنسی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں اب بھی بے شمار راز پوشیدہ ہیں، جنہیں دریافت کرنا باقی ہے۔
